ہتک عزت کے دعوے پر عدالت کا عمران خان سے جواب طلب

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ساجد منور عدالت میں پیش ہوئے تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ساجد منور عدالت میں پیش ہوئے تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کے سیشن کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے ہتک عزت کے دعوے پر وزیراعظم عمران خان سے جواب طلب کرلیا۔

ایڈیشنل سیشن جج امجد علی نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سابق وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کی درخواست پر سماعت کی۔

مزیدپڑھیں: ہتک عزت کے دعوے سے متعلق درخواست، عمران خان کو جواب جمع کروانے کا حکم

سماعت کے آغاز پر شہباز شریف کی جانب سے مصطفی رمدے نے عدالت میں دلائل دیے اور روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت کے لیے درخواست دائر کی۔

شہباز شریف کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت عمران خان کا جواب جمع کرانے کا حق منجمند کرے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ساجد منور عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

شبہاز شریف کے وکیل نے کہا کہ عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملہ پر رشوت دینے کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ریحام کی کتاب چھپنے پر ہتک عزت کا دعویٰ کروں گی، جمائمہ گولڈ اسمتھ

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کو رشوت کی آفر نہیں کی‘۔

مصطفیٰ رمدے نے استدعا کی ’عمران خان کے بیان سے میرے موکل کی شہرت کو نقصان پہچا اس لیے عدالت تحریک انصاف کے سربراہ کو 100 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔

بعدازاں عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر مقدمے میں ان سے جواب طلب کرلیا اور کیس کی سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ عمران خان نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔

10 ارب روپے کی پیشکش کے اس الزام پر ہتک عزت کا دعوی دائر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: پاناما کیس: 'حکومت نے خاموش رہنے کیلئے 10 ارب روپے کی پیشکش کی'

درخواست میں کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، جن کے بڑے بھائی نواز شریف وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں، کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے اور عوامی خدمت و فلاح و بہبود کی بنا پر درخواست گزار کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت عزت و احترام کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے گذشتہ برس بھی عمران خان کے خلاف ایک لیگل نوٹس بھجوایا تھا جس میں جاوید صادق کو فرنٹ مین مقرر کرکے اربوں روپے وصول کرنے کے الزام پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عمران خان کے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں عمران خان کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ جے آئی ٹی کے معاملے پر 'اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو وزیراعظم نواز شریف کے پاس بہت وسائل ہیں'۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ 'اب وزیراعظم اس معاملے سے نکل نہیں سکتے تاہم اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو ان کے پاس بہت وسائل ہیں، جب مجھے چپ کرنے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو یہ اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟'۔