وزیراعظم نے سابق حکمرانوں کے ساتھ ’ڈیل‘ کا امکان مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے اپنے دفتر میں ملاقات کی—تصویر: پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ
وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے اپنے دفتر میں ملاقات کی—تصویر: پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے مابین ممکنہ ڈیل کی رپورٹس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ سابق حکمرانوں کے کرپشن کیسز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان کی جماعت کے رہنما بابر اعوان سے اپنے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’کوئی سمجھوتہ، کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی‘۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم نے احتساب کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ نطام احتساب کسی قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک ہے، اس کے ساتھ انہوں نے احتساب کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جس بادشاہ سے سفارش کروالیں، این آر او نہیں دوں گا، وزیراعظم

دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مستقبل میں ’ڈیل کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت‘ کے حوالے سے کچھ پیش رفت کا اشارہ دیا تھا۔

دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بھی میڈیا سے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ ’احتساب کے عمل سے کاروبار متاثر نہیں ہونے چاہئیں‘۔

پی ٹی آئی اعلامیے میں بابر اعوان کے حوالے سے کہا گیا کہ جو لوگ ’ڈیل کے بارے میں افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ مایوس ہوں گے اور احتساب کے عمل کے مثبت اثرات جلد عوام کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے۔

مزید پڑھیں: این آر او کو قانون بنانے میں میرا کوئی کردار نہیں، آصف زرداری

خیال رہے کہ اس سے قبل مختلف مواقع پر وزیراعظم اعلان کرچکے ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو کسی قسم کا این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری جانب وزیر ریلوے نے کہا تھا کہ ’شہباز شریف ایک مرتبہ پھر مارکیٹ میں آچکے ہیں اور چونکہ وہ مذاکرات کے ذریعے گھمبیر مسائل حل کرنے میں ماہر ہیں اس لیے بارگیننگ کی اچھی پوزیشن میں ہیں، شہباز شریف رابطے میں ہیں‘۔

نئے بالاکوٹ شہر کا منصوبہ

علاوہ ازیں ایک دوسرے اجلاس میں وزیر اعظم نے اربوں روپے مالیت کے نئے بالاکوٹ شہر منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا جس کا آغاز 12 برس قبل کیا گیا تھا لیکن بہت سی وجوہات کی بنا پر کوئی کام نہیں ہوسکا۔

خیال رہے کہ اس منصوبے کا اعلان 2005 میں زلزلے کے بعد کیا گیا تھا جس میں پرانے بالاکوٹ میونسپل علاقے کا 14 سو ایکڑ پر محیط تقریباً 95 فیصد انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا تھا۔

نئے بالاکوٹ شہر کا منصوبہ 6 جولائی 2007 کو متعارف کروایا گیا، جسے جولائی 2012 میں 13 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونا تھا جس میں ڈیڑھ ارب روپے زمین کی مالیت بھی شامل تھی اور اس کی ادائیگی بھی خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کرچکی ہیں۔