مراکش: اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار خاتون صحافی کے ٹرائل کا آغاز

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2019

ای میل

ھاجر الریسونی کو 31 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا —فوٹو: لی 360
ھاجر الریسونی کو 31 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا —فوٹو: لی 360

شمالی افریقہ کے ملک مراکش میں اسقاط حمل کرانے اور شادی سے قبل کسی مرد سے جنسی تعلقات استوار کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون صحافی کے خلاف ٹرائل کا آغاز کردیا گیا۔

خاتون صحافی ھاجر الریسونی کو گزشتہ ماہ 31 اگست کو پولیس نے اسقاط حمل کرانے کے الزام میں ایک کلینک کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نہ صرف غیر قانونی طور پر اسقاط حمل کروایا بلکہ ان پر شادی سے قبل ایک شخص سے جنسی تعلقات استوار کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

ھاجر الریسونی نے اپنی گرفتاری کے وقت ہی الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف تمام الزامات جھوٹے ہیں اور انہیں ان کی صحافتی ذمہ داریاں نبھانے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ھاجر الریسونی کا تعلق الیوم اخبار سے ہے—فوٹو: الیوم 24
ھاجر الریسونی کا تعلق الیوم اخبار سے ہے—فوٹو: الیوم 24

ھاجر الریسونی کی گرفتاری پر مراکش کی صحافتی و سماجی تنظیموں کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بیانات جاری کیے تھے اور ان کی گرفتاری کو آزادی اظہار کو دبانے کے سلسلے کی کڑی قرار دیا تھا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے ھاجر الریسونی کو 2 ستمبر کو عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مراکش: 'اسقاط حمل' پر خاتون صحافی گرفتار

رواں ماہ 4 ستمبر کو ھاجر الریسونی کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ انہوں نے ماضی میں بھی اسقاط حمل کروائے تھے۔

ھاجر الریسونی کے خلاف شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے اور اسقاط حمل کرانے کے الزامات کے تحت رواں ماہ 9 ستمبر کو ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔

ھاجر الریسونی کے خلاف 9 ستمبر کو ٹرائل کا آغاز ہوا—فوٹو: اے پی
ھاجر الریسونی کے خلاف 9 ستمبر کو ٹرائل کا آغاز ہوا—فوٹو: اے پی

ھاجر الریسونی کے خلاف ٹرائل کی دوسری سماعت 16 ستمبر کو رکھی گئی۔

مراکش کی نیوز ویب سائٹ ’موروکو ورلڈ نیوز‘ نے ایک اور نشریاتی ادارہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 16 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران خاتون صحافی پر فرد جرم عائد کی جانی تھی، تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔

رپورٹ کے مابق خاتون صحافی کی قانونی ٹیم نے عدالت کو درخواست کی کہ خاتون صحافی کی طبیعت خراب ہے اور وہ عدالت میں زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتیں، اس لیے سماعت کو ملتوی کیا جائے۔

عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق خاتون صحافی پہلے بھی اسقاط حمل کرا چکی ہیں—فوٹو: فیس بک
عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق خاتون صحافی پہلے بھی اسقاط حمل کرا چکی ہیں—فوٹو: فیس بک

خاتون صحافی کے وکلا کی درخواست پر عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی اور خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک ھاجر الریسونی پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

اگر ھاجر الریسونی پر الزام ثابت ہوگیا تو انہیں 2 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔

مزید پڑھیں: مراکش: اسقاط حمل کے الزام میں خاتون صحافی کی گرفتاری پر تنازع کا نیا موڑ

خیال رہے کہ مراکش میں اسقاط حمل غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

ھاجر الریسونی کے خلاف الزام ثابت ہوگیا تو انہیں جیل اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے—فوٹو: مڈل ایسٹ آن لائن
ھاجر الریسونی کے خلاف الزام ثابت ہوگیا تو انہیں جیل اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے—فوٹو: مڈل ایسٹ آن لائن

مراکش میں اس وقت ہی اسقاط حمل کی اجازت دی جاتی ہے جب ماں کی زندگی یا پیٹ میں پلنے والے بچے کی صحت کے حوالے سے کوئی پیچیدگی ہو۔

شمالی افریقہ کے ملک میں ’ریپ‘ اور ناجائز جنسی تعلقات کے بعد ہونے والے حمل کو ضائع کروانا بھی غیر قانونی ہے اور 'ابارشن' کرنے والے ڈاکٹرز اور افراد کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

مراکش کی اسمبلی نے 2016 میں اسقاط حمل سے متعلق ایک نئے بل کا مسودہ تیار کیا تھا، جس کے تحت ’ریپ‘ اور ’ناجائز جنسی تعلقات‘ کے بعد ہونے والے حمل کو شواہد پیش کیے جانے کے بعد ضائع کرنے کی قانونی اجازت ہوگی، تاہم اس بل پر تاحال قانون سازی نہیں ہوسکی۔

ھاجر الریسونی نے الزامات کو مسترد کردیا ہے—فوٹو: ڈبل اے ڈاٹ کام ٹی آر
ھاجر الریسونی نے الزامات کو مسترد کردیا ہے—فوٹو: ڈبل اے ڈاٹ کام ٹی آر