سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے گروپس نے 'میڈیا کورٹس' کا حکومتی اقدام مسترد کردیا

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2019

ای میل

میڈیا تنظیموں نے بھی حکومتی اعلان کی مذمت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
میڈیا تنظیموں نے بھی حکومتی اعلان کی مذمت کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: سیاست دانوں، میڈیا تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپس نے وفاقی حکومت کی جانب سے بنیادی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر میڈیا کے خلاف شکایات کے لیے خصوصی ٹریبونلز قائم کرنے کے اعلان کو مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جانب سے منگل کو میڈیا ٹریبونلز کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا ہے کہ میڈیا ٹریبونلز کی تشکیل کے بارے میں بل قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں پیش کیا جائے'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت 'میڈیا تنظیموں کے ساتھ اس معاملے پر بعد میں بات چیت کرے گی'۔

مزید پڑھیں: اسپیشل میڈیا ٹربیونل کے قیام کا فیصلہ

تاہم اس اعلان پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان میں اس عمل کو میڈیا کے خلاف الزام تراشی کو شروع کرنے کے ساتھ ساتھ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ذریعے 'اپوزشین لیڈرز کو یرغمال' بنانے کے طور پر دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح وہ اپنے مخالفین اور ناقدین کے ساتھ سلوک کر رہے وہ آزمائش کے دور کی یاد دلانے والا ہے، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پی ٹی آئی کا بیانہ گوئبلز کی پروپیگنڈا پلے بک کی طرح ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی پی پی کسی صورت میں اس بل کو پاس نہیں ہونے دے گی اور 'ہم میڈیا کی آزادی کے لیے کھڑے ہیں، پاکستان کا میڈیا نیازی دور حکومت میں سینسرشپ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے'۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ 'بس بہت ہوگیا اور ہم انہیں اس طرح ڈھٹائی سے میڈیا کو نشانہ بنانے نہیں دیں گے'۔

ادھر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کا کہنا تھا کہ انہیں حکومت کی جانب سے میڈیا ٹریبونلز کے قیام کے اعلان پر 'سخت تحفظات' ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں گروپ نے لکھا کہ 'پریس کی آزادی سے متعلق حکومت کے مذموم ریکارڈ پیش کرتے ہوئے ایچ آر سی پی اس بات پر زور دیتا ہے کہ میڈیا پر مزید دباؤ ڈالنے سے باز رہا جائے'۔

ساتھ ہی گروپ نے یہ سوال کیا کہ کس طرح ٹریبونلز سے میڈیا کی آزادی برقرار رکھنے کی توقع کی جاسکتی ہے؟

دوسری جانب سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ میڈیا پر کوئی بھی پابندی جمہوریت پر حملہ اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور پارلیمنٹ میں مزاحمت کی جائے گی۔

حکومتی اعلان پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس تجویز کو مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ ایک غیر پارلیمانی اقدام ہے، 'ہم پارلیمنٹ میں اس بل کو روکنے کے لیے ہر ممکن طریقے استعمال کریں گے'۔

علاوہ ازیں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے بھی میڈیا کورٹس کے خیال کو مسترد کردیا۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ایوب جان سرہندی نے مشترکہ بیان میں اس خیال کی مذمت کی اور اسے پہلے سے سینسرشپ اور مالی بحران کا شکار میڈیا اور صحافیوں کو دبانے کا ایک اور ذریعہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا پر سنسرشپ مارشل لا ادوار سے بدتر ہے، رضا ربانی

دریں اثنا کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے بھی اس فیصلے پر آواز بلند کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔

ایک بیان میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کا کہنا تھا کہ 'حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے میڈیا پہلے ہی مشکل وقت سے گزرہا ہے اور اب اس فیصلے کے ذریعے یہ میڈیا پر مزید پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں'۔

ادھر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے بھی وفاقی کابینہ کے فیصلے کو مسترد کیا۔

اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکریٹری جنرل سرمد علی کا کہنا تھا کہ جس روز میڈیا میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر خصوصی میڈیا ٹریبونلز کے قیام کا اعلان کیا گیا وہ دن پاکستان میں میڈیا کی تاریخ کا 'سیاہ' دن تھا۔