افغانستان کا ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، دفترخارجہ

20 ستمبر 2019

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے 18 ستمبر کو ظورخم سرحد پر ٹرمینل کا افتتاح کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز
وزیراعظم عمران خان نے 18 ستمبر کو ظورخم سرحد پر ٹرمینل کا افتتاح کیا تھا—فائل/فوٹو:رائٹرز

دفترخارجہ نے افغانستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بین الاقوامی سرحد ماننے سے ایک مرتبہ پھر انکار کو 'غیرذمہ دارانہ اور غیر ضروری' بیان قرار دے دیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پاکستان اور افغانستان کی سرحد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے، دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سرحد متعلقہ تمام عالمی قوانین اور کنونشز کے مطابق ہے'۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ طورخم کراسنگ پوائنٹ کو 24 گھنٹے کھلا رکھنا 'دونوں جانب کے تاجروں اور عوام کو سہولت دینے کی جانب ایک اہم قدم' ہوگا۔

افغانستان کے ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کے بیانات صرف دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون کے حل کو کم تر کرتے ہیں اور اس سے بچنا چاہیے'۔

قبل ازیں افغان وزارت خارجہ نے پاکستان کی جانب سے طورخم کے مقام پر پاک-افغان سرحد کو 24 گھنٹے کھلارکھنے کے منصوبے کے افتتاح پر ردعمل دیتےہوئے کہا تھا کہ 'کابل ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ سرحد تسلیم نہیں کرتا'۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے طورخم سرحد پر ٹرمینل کا افتتاح کردیا

پاکستانی اقدام کی مخالفت کے باوجود افغان وزارت خارجہ کے بیان کو طورخم کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے منصوبے کی خاموش حمایت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ بیان میں اس اقدام کے فائدہ بھی بتائے گئے ہیں۔

کابل سے جاری بیان میں کہاگیا تھا کہ 'طورخم کراسنگ سے اسلامی جمہوری افغانستان اور اسلامی جمہوری پاکستان کے درمیان تجارت میں آسانی اور مریضوں کی مزید مدد کے لیے ہر وقت فعال رہے گا'۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 18 ستمبر کو طورخم سرحد کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے لیے ٹرمینل کا افتتاح کردیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اس سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہو گا اور خطے میں تبدیلی آئے گی کیونکہ کئی وسطی ایشیائی ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کے خواہش مند ہیں۔

طورخم سرحد پرجدید ٹرمینل کی تعمیر کا آغاز رواں برس جون میں افغان صدر کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان سے سرحد پار تجارت میں نرمی کی درخواست کے بعد ہوا تھا۔