افغانستان: دھماکوں میں ایک حاملہ خاتون، 2 بچے ہلاک

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2019

ای میل

قندھار میں سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے 2 بچے ہلاک جبکہ پروان میں غیر استعمال شدہ بم پھٹنے سے ایک حاملہ خاتون ہلاک ہوئیں — رائٹرز/فائل فوٹو
قندھار میں سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے 2 بچے ہلاک جبکہ پروان میں غیر استعمال شدہ بم پھٹنے سے ایک حاملہ خاتون ہلاک ہوئیں — رائٹرز/فائل فوٹو

کابل: افغانستان کے صوبے قندھار کے جنوبی علاقے میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں 2 بچے ہلاک اور 5 افراد زحمی ہوگئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاحال کسی بھی تنظیم کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

علاوہ ازیں افغانستان کے صوبے پروان کے شمالی علاقے میں بچوں سے کھیلتے ہوئے غیر استعمال شدہ بم پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک حاملہ خاتون ہلاک ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں خفیہ ادارے کے دفتر پر خودکش دھماکا، 20 افراد ہلاک

مقامی ہسپتال کے سربراہ قاسم سنگن کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 7 بچے اور 2 دیگر خاتون زخمی بھی ہوئیں جبکہ ایک بچے کی حالت تشویشناک ہے۔

پروان کے پولیس حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ غیر استعمال شدہ بم کافی پرانہ تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 4 دہائیوں سے ہونے والی جنگوں کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں غیر استعمال شدہ بارودی سرنگیں، آرٹلری شیل، بم اور دیگر گولہ بارود شہریوں کے پاس موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات سے قبل طالبان کے افغانستان میں حملے، 2 دھماکوں میں 48 افراد ہلاک

اس سے قبل جمعے کی رات کو کابل میں 2 دھماکوں سے شہر لرز اٹھاتا تھا تاہم پولیس سربراہ کے ترجمان فردوس فرامرز کا کہنا تھا کہ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تقریباً روزانہ ہی طالبان کے حملے ہوتے ہیں اور آئندہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل ان حملوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں گزشتہ 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان کئی ماہ سے جاری امن مذاکرات بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں۔