ٹرمپ کو واضح کردیا کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، وزیرخارجہ

24 ستمبر 2019

ای میل

وزیرخارجہ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کی—فوٹو:بشکریہ پی ٹی وی
وزیرخارجہ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کی—فوٹو:بشکریہ پی ٹی وی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ مرکوز کروائی ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلے کا آسان نہ لیا جائے کیونکہ دو فریق جوہری طاقت کے حامل ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران تین امور پر بات چیت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی صدر کو پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال انسانی المیہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ٹرمپ کو بتایا کہ 80 لاکھ لوگ محاصرے میں ہیں جس کے باعث مقبوضہ وادی کھلی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے، وہاں کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، حالات بگڑ چکے ہیں اور ان کے مزید بگڑنے کے امکانات ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان، بھارت چاہیں تو کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ امریکا سمیت بین الاقوامی برادری کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں خون خرابے کے امکانات ہیں۔

وزیراعظم اور ٹرمپ کی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کے لیے پاکستان کا کردار ڈھکا چھپا نہیں، وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کے اس حوالے سے مثبت کردار کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ مسئلہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، صرف گفت و شنید سے آگے بڑھا جا سکتا ہے، ڈیڈ لاک جلد ختم ہونا چاہیے اور مذاکرات بحال ہونے چاہیں، مستقبل قریب میں اس مسئلے پر اہم پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے معاملے پر یہ موقف اختیار کیا کہ یہ خطہ کسی اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، بغیر سوچے سمجھے کارروائی کے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مصروف ہے اور ایران میں جنگ سے اس سرحد پر بھی نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا، امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے اور آپ اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:نائن الیون کے بعد امریکا کا اتحادی بننا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی، وزیراعظم

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ایران کے صدر حسن روحانی سے جلد ملاقات ہونی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو جن پیرا میٹرز پر بات چیت کا اختیار دیا ہے وہ اس کے اندر رہتے ہوئے ایرانی صدر سے گفتگو کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ایرانی وزیر خارجہ سے پہلے بھی ملاقات ہوئی ہے اور اس معاملے پر بھی ان سے بات ہو سکتی ہے، ہمیں دیکھنا ہو گا کہ معاملات کیسے سدھر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران بھی یہی موقف اختیار کیا تھا کہ ایران سے کشیدگی کے معاملے پر جذبات سے ہٹ کر فہم و فراست سے آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ خطے کی صورت حال پہلے ہی بہت خطرناک ہے۔

صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے دیانت دارانہ انداز میں پاکستان کے موقف کی ترجمانی کی ہے، وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے اور پاکستان کا موقف اجاگر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، امریکا سمیت دنیا کو تصویر کا یہ رخ دکھا رہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ معمول کی بات ہے لیکن ہمارا موقف ہے کہ صورت حال پیچیدہ ہو چکی ہے اور مزید پیچیدہ ہو جائے گی، دنیا کے لاتعلق رہنے سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان معاملات بگڑ سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ پر پابندی ہے، مذہبی آزادی پامال کی جا رہی ہے، اسکول بند ہونے کے باعث بچے اسکول نہیں جا پارہے، مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے، مقبوضہ وادی میں مسلسل 50 روز سے کرفیو کے باعث معمولات زندگی معطل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، موجودہ حالات کے تناظر میں پاک-امریکا تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔