امریکا کا مقبوضہ کشمیر پر عائد پابندیاں نرم کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2019

ای میل

امریکی عہدیدار برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے کہا کہ امریکا کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے حوالے سے تشویش ہے —فائل فوٹو: وکی میڈیا
امریکی عہدیدار برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے کہا کہ امریکا کو بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے حوالے سے تشویش ہے —فائل فوٹو: وکی میڈیا

امریکا نے بھارت پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر لگائی گئی پابندیاں فوری طور پر نرم کی جائیں اور اس کے ساتھ ہی امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بھی کیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی اعلیٰ عہدیدار برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ’ہم پابندیاں ختم کرنے اور حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے حوالے سے فوری اقدام دیکھنے کے لیے پُرامید ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو کشمیر کے رہائشیوں پر عائد پابندیوں اور سیاست دانوں و تاجر رہنماؤں سمیت بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں کے حوالے سے سخت تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم انتظار کریں گے کہ بھارتی حکومت مقامی رہنماؤں سے سیاسی روابط بحال کریں اور وعدے کے مطابق انتخابات جتنی جلد ممکن ہوسکے کروائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے زیر حراست تشدد سے نوجوان شہید

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے فروغ اور کشیدگی کی کمی سے دنیا کو فائدہ ہوگا اور اسی لیے امریکی صدر نے اس صورت میں ثالثی کی پیشکش کی تھی کہ اگر دونوں ممالک راضی ہوں‘۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ہیوسٹن میں ایک جلسے میں شرکت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی خوب تعریف کی اور بے پناہ دوستی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جلسے میں دیے گئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو ہی جارحانہ قرار دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کا او آئی سی سے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے کا مطالبہ

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت کے لیے 7 روزہ دورے پر امریکا میں موجود ہیں جہاں انہوں نے متعدد ممالک کے سربراہان اور عالمی رہنماؤں سے ملاقات کیں اور دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی جانب مبذول کروائی۔

اس دوران وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف بھارتی وزیراعظم کی مذمت کی بلکہ ان کے نظریات کو نازی خیالات سے متاثر قرار دیا۔

امریکی عہدیدار ایلس ویلز نے وزیراعظم کے تبصرے کو ’غیر کارآمد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بیان بازی میں کمی کا خیرمقدم کیا جائے گا بالخصوص 2 جوہری طاقتوں کے درمیان‘۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی پراپیگنڈے پر سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین کے وفد کو پاکستان کی بریفنگ

انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ وزیراعظم عمران خان دیگر ترک مسلمانوں اور چین کے بارے میں کیوں نہیں بولتے، جس نے 10 لاکھ مسلمانوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں گی کہ مغربی چین میں زیر حراست مسلمانوں کے حوالے سے بھی اسی سطح کی تشویش کا اظہار کیا جائے جو درحقیقت قیدیوں جیسی صورتحال میں ہیں'۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال

خیال رہے کہ 5 اگست کو نریندر مودی کی حکومت نے بھارتی آئین میں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے اس کے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

اس اقدام کے تناظر میں کشمیری عوام کے احتجاج کے ردِ عمل کے پیش نظر بھارتی حکومت نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ اضافی سیکیورٹی اہلکار وادی میں بھیج کر کچھ علاقوں میں کرفیو اور کہیں لاک ڈاؤن کیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں نقل و حرکت پر پابندی کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ، مواصلاتی روابط اور ٹیلی فون لائنز بھی منقطع کردی تھیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت ہزاروں کی تعداد میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

تقریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود بھارتی حکومت کی جانب سے وادی میں پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم کشمیری نوجوان مزاحمت جاری رکھتے ہوئے روزانہ احتجاج بھی کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر نہ صرف مقامی اور بین الاقوامی تنظیمیں بلکہ متعدد ممالک کے رہنما بھی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔