مہنگائی کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2019

ای میل

مہنگائی سے خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا —فائل فوٹو: ڈان
مہنگائی سے خوردنی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا —فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: محکمہ شماریات نے بتایا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ماہ ستمبر میں افراط زر (مہنگائی) کی شرح 11.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے ذریعے دیکھے جائے تو محکمہ شماریات کے حساب کتاب کے طریقہ کار میں نظرثانی کے بعد مہنگائی گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.77 فیصد بڑھی۔

نئے بیس ایئر (16-2015) کی بنیاد پر ستمبر میں افراط زر گزشتہ ماہ کے 10.49 فیصد کے مقابلے میں 11.37 فیصد ہوگئی۔

بیس ایئر میں تبدیلی کا مطلب مالی سال 2016 میں معیشت کی قیمت کی سطح ہے جو اب اس بنیاد پر ہوگی جس کے خلاف سی پی آئی ناپنے کے لیے تمام موجودہ قیمتوں کا حساب کتاب کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مہنگائی گزشتہ 6 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اگر مالی سال 2008 کے پرانے بیس ایئر کی طرف جائیں جو 2 ماہ قبل تک استعمال ہورہا تھا تو اہم افراط زر کا انڈیکس ستمبر کے لیے 12.55 فیصد پر آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ماہ اگست کے دوران 0.92 فیصد کا اضافہ دکھاتا ہے۔

تاہم نئے بیس ایئر کے مطابق کم سے کم سی پی آئی جولائی میں 8.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جو بڑھتے ہوئے ستمبر میں 11.37 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس ری بیسنگ سے اگر دوسری جانب نظر ڈالیں تو محکمہ شماریات نے سامان کی ٹوکری میں مختلف استعمال ہونے والی اشیا کے لیے مختص وزن کو بھی تبدیل کردیا اور دیہی اور شہری علاقوں سے حاصل کی جانے والی قیمتوں کا نیا پینل متعارف کروادیا۔

اعداد و شمار کے مطابق شہری سی پی آئی 35 شہروں اور 356 صارفین کی اشیا کو کور کرتا ہے جبکہ دیہی ریکارڈ 27 دیہی مراکز اور 244 اشیا کو کور کرتا ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اندازہ لگایا تھا کہ پاکستان کی افراط زر 13 فیصد تک جاسکتی ہے تاہم حکومت نے اس کا اندازہ تقریباً 11 فیصد تک لگایا تھا جو پہلے ہی گزشتہ ماہ تجاوز کرچکی ہے۔

نئے طریقہ کار کے مطابق ستمبر میں بنیادی افراط زر 8.2 فیصد سے بڑھ کر 8.8 فیصد تھی جبکہ مزید جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ستمبر میں شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ ماہانہ بنیاد پر یہ شرح 2 فیصد رہی۔

اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں خوراک کی افراط زر سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1.8 فیصد رہی۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سال بعد مہنگائی کی شرح دوبارہ 10 فیصد سے تجاوز کرگئی

شہری علاقوں میں جن خوردنی اشیا کی قیمتیں بڑھیں ان میں چکن (40.75 فیصد)، ٹماٹر (37.47 فیصد)، پیاز (32.31 فیصد)، تازہ سبزیاں (12.84 فیصد)، انڈے (9.76 فیصد)، آلو (6.21 فیصد)، کھانے پکانے کا تیل (4.68 فیصد)، ویجیٹیبل گھی (4.18 فیصد)، موٹر فیول (3.88 فیصد)، چینی (3.78 فیصد)، دال مسور (2.54 فیصد)، سرسوں کا تیل (1.75 فیصد)، چنے کی دال (1.44 فیصد)، میدہ (1.29 فیصد) اور دال ماش (1.01 فیصد) شامل ہیں۔

دوسری جانب شہری علاقوں میں جو اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں ان میں تازہ پھل (15.64 فیصد) اور گندم (0.3 فیصد) شامل ہیں۔

دیہی علاقوں پر نظر ڈالیں تو وہاں جو اشیا مہنگی ہوئیں ان میں ٹماٹر (35.4 فیصد)، پیاز (28.49 فیصد)، چکن (26.56 فیصد)، آلو (18.18 فیصد)، تازہ سبزیاں (10.96 فیصد)، انڈے (9.79 فیصد)، چینی (5.21 فیصد)، خوردنی تیل (3.22 فیصد)، دال مونگ (2.81 فیصد)، ویجیٹیبل گھی (2.51 فیصد)، دال ماش (2.35 فیصد) اور ملک پاؤڈر (1.85 فیصد) شامل ہیں۔

علاوہ ازیں تازہ پھل کی قیمت 20.6 فیصد، مچھلی 2.8 فیصد، پھلیاں 1.72 فیصد اور گندم 0.32 فیصد سستی ہوئیں۔