پہلا ٹی20: عالمی نمبر ایک پاکستان 101 رنز پر ڈھیر، سری لنکا کامیاب

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2019

ای میل

عمر اکمل کو پہلی ہی گیند پر آؤٹ کرنے کے بعد سری لنکن کھلاڑی جشن منا رہے ہیں — فوٹو: اے پی
عمر اکمل کو پہلی ہی گیند پر آؤٹ کرنے کے بعد سری لنکن کھلاڑی جشن منا رہے ہیں — فوٹو: اے پی

عالمی نمبر ایک پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں 101 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ناتجربہ سری لنکن ٹیم نے پہلے میچ میں 64 رنز کے بھاری مارجن سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔

قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر وکٹ کو بیٹنگ کے لیے سازگار قرار دیتے ہوئے سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

سری لنکا کے اوپنرز نے جارحانہ انداز اپنایا اور پہلی وکٹ میں 84 رنز کی شراکت قائم کر کے اچھی بنیاد رکھی۔

شاداب خان نے 38 گیندوں پر 8 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 57 رنز کی اچھی اننگز کھیلنے والے گوناتھیلاکا کو آؤٹ کرکے میچ میں پہلی وکٹ حاصل کی۔

پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد ٹاس کا سکہ اچھال رہے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی
پہلے ٹی20 میچ میں پاکستان کے کپتان سرفراز احمد ٹاس کا سکہ اچھال رہے ہیں— فوٹو بشکریہ پی سی بی

سری لنکا نے 12ویں اوور میں 100 رنز مکمل کر لیے تھے اور آوشکا فرنینڈو نے بنوکا راجا پکسے کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 36رنز جوڑے لیکن 120 کے مجموعی اسکور پر فرنینڈو رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

راجا پکسے نے 32 رنز کی اننگز کھیلی لیکن محمد حسنین کی گیند پر وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کی پاداش میں آؤٹ قرار پائے۔

اس کے بعد فہیم اشرف کے اگلے اوور میں 15 رنز بنے جبکہ محمد عامر کے اوور میں سری لنکن بلے باز صرف تین رنز ہی بنا سکے۔

ایک موقع پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سری لنکن بلے باز باآسانی 180 سے 190 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اختتامی اوورز میں پاکستانی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب مہمان بلے باز زیادہ تیزی سے رنز نہ بنا سکے۔

اننگز کے 19ویں اوور میں سری لنکن بلے بازوں نے حسنین کو آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں 17 رنز بنانے والے کپتان داسن شناکا اور شیہان جے سوریا دونوں اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے اور حسنین نے اپنی پہلی انٹرنیشنل ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔

سری لنکا کی ٹیم مقررہ اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز ہی بنا سکی۔

پاکستان کی جانب سے حسنین تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ ایک وکٹ شاداب نے حاصل کی۔

ہدف کے تعاقب میں اوپننگ کرنے والے بابر اعظم 13 رنز بنا کر اور ٹیم میں تین سال بعد واپسی کرنے والے عمر اکمل صفر پر آؤٹ ہوئے جس کے بعد احمد شہزاد بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے اور صرف 4 رنز بنا کر پویلین سدھار گئے۔

قومی ٹیم 22 رنز پر تین وکٹیں گنوا چکی تھی اور اس مرحلے پر کپتان سرفراز احمد کا ساتھ دینے افتخار احمد آئے۔

دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 46 رنز کی شراکت قائم کی البتہ اس دوران ٹیم کا رن ریٹ انتہائی کم رہا جس کی وجہ سے درکار رن ریٹ 10 سے تجاوز کر گیا۔

اس شراکت کا خاتمہ وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں ہوا اور افتخار 24 گیندوں پر 25 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

کپتان سرفراز احمد کی 30 گیندوں پر 24 رنز کی اننگز بھی بالآخر اختتام کو پہنچی اور وہ ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کو چلتے بنے جبکہ جبکہ عماد وسیم بھی صرف 7 رنز بنا سکے۔

اس موقع پر ٹیم کی امیدیں آصف علی سے وابستہ تھیں لیکن وہ بھی صرف 6 رنز بنا کر پویلین پہنچ گئے جبکہ فہیم اشرف نے 8 رنز سے زیادہ بنانے کی زحمت گوارہ نہ کی۔

اس کے بعد سری لنکا کو پاکستان کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور عالمی نمبر ایک ٹی 20 ٹیم صرف 101 رنز پر ڈھیر ہو کر میچ میں 64 رنز سے شکست سے دوچار ہو گئی۔

پاکستان کی بیٹنگ لائن کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔

سری لنکا کی جانب سے اسورو یوڈانا اور نووان پرادیپ نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں۔

57 رنز کی اننگز کھیلنے والے دھنشکا گوناتھیلاکا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

پاکستان: سرفراز احمد(کپتان)، احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، عمر اکمل، آصف علی، افتخار احمد، عماد وسیم، فہیم اشرف، شاداب خان، محمد عامر اور محمد حسنین۔

سری لنکا: داسن شناکا(کپتان)، دھنشکار گونا تھیلاکا، آوشکا فرنینڈو، شیہان جے سوریا، بنوکا راجا پکسے، نود بھنوکا، لکشن سنداکن، ایسورو یوڈانا، ونندو ہسارنگا، کاسن رجیتھا اور نوان پرادیپ۔