مواخذے کی تحقیقات: دوسرے مخبر کی ٹرمپ کے خلاف اہم معلومات دینے کی پیشکش

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2019

ای میل

امریکی صدر نے غیر معمولی طور پر اتوار کا دن وائٹ سفر کرنے یا گولف کھیلنے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں رہ کر گزارا — فائل فوٹو/ اے پی
امریکی صدر نے غیر معمولی طور پر اتوار کا دن وائٹ سفر کرنے یا گولف کھیلنے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں رہ کر گزارا — فائل فوٹو/ اے پی

واشنگٹن: امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی تحقیقات میں سامنے آنے والے دوسرے مخبر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اہم معلومات دینے کی پیش کش کردی۔

ڈان اخبار میں شائع خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اٹارنی مارک زید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہماری قانونی ٹیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے دوسرے مخبر کی تصدیق کرسکتا ہوں‘۔

اٹارنی نے مزید دعویٰ کیا کہ ’مخبر نے قانون کے تحت مزید انکشاف بھی کیا اور اس کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جاسکتی، اس مخبر کے پاس ابتدائی اہم نوعیت کی معلومات موجود ہیں‘۔

قبل ازیں گزشتہ روز مارک زید کے ساتھی وکیل اینڈریو بکاج نے کہا تھا کہ ان کی کمپنی اور ٹیم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فون کال کے ذریعے یوکرین کے صدر کو سیاسی مخالف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کے خلاف تحقیقات پر مجبور کرنے کے الزام سے متعلق مختلف مخبروں کی نمائندگی کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

تاہم یہ واضح نہیں کہ اینڈریو بکاج نے مختلف کا لفظ 2 سے زائد مخبروں کی جانب اشارے کرنے کے لیے استعمال کیا ہے یا نہیں۔

عام طور کئی عہدیداران کو صدر اور غیر ملکی سربراہ کے درمیان کال پر ہونے والی گفتگو سنتے ہیں جبکہ دیگر کو تحریری مسودے تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

اہم معلومات رکھنے والے مخبر کی موجودگی امریکی صدر اور ان کے حامیوں کے لیے مذکورہ شکایت کو سنی سنائی بات کے طور پر مسترد کرنا مشکل بنادے گی جیسا وہ کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹس میں خود پر عائد الزامات کو مسترد کیا تھا تاہم انہوں نے دوسرے مخبر کی موجودگی سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔

انہوں نے اپنے بیان کو دہرایا تھا کہ ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی کمپنی سے ماہانہ بنیادوں پر ایک لاکھ ڈالر وصول کیے تھے جبکہ ان کے پاس توانائی کے شعبے میں کوئی تجربہ نہیں تھا، علاوہ ازیں ہنٹر بائیڈن نے کسی تجربہ اور ظاہری وجہ نہ ہونے کے باوجود چین سے ڈیڑھ ارب ڈالر وصول کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کیخلاف مواخذہ: یوکرین میں امریکی نمائندہ خصوصی مستعفی

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’صدر ہونے کی حیثیت سے مجھ پر کسی ممکنہ کرپشن کی تحقیقات کروانا لازم ہے‘۔

دیگر رپورٹس کے مطابق ہنٹر بائیڈن کو یوکرین کی گیس کمپنی کے بورڈ کا رکن ہونے کی حیثیت سے ماہانہ 50 ہزار ڈالر دیے جاتے تھے۔

اس حوالے سے تاحال کوئی شواہد موجود نہیں کہ ہنٹر بائیڈن نے کوئی غیرقانونی کام کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے غیر معمولی طور پر اتوار کا دن وائٹ سفر کرنے یا گولف کھیلنے کے بجائے وائٹ ہاؤس میں رہ کر گزارا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اینکر جیک ٹیپر کا بیان ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’گزشتہ 3 برسوں کے دوران انتہائی اہم خبروں کے ہفتوں کے دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے کسی کو مہمان کے طور پر نہیں بھیجا گیا اور صدر کے ذاتی وکلا اور ری پبلکن جماعت کے اراکین کانگریس نے یا تو شو پر آنے سے انکار کردیا یا جواب نہیں دیا'۔

تاہم ایک ری پبلکن سینیٹر رون جانسن نے نشریاتی ادارے این بی سی کے پروگرام ‘میٹ دی پریس‘ میں یوکرین پر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات سے متعلق دباؤ ڈالنے کے لیے فوجی امداد روکنے کی رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔