خیبرپختونخوا: ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کے قتل کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج

اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2019

ای میل

طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے مظاہروں میں شرکت کی —فوٹو: عمر باچا
طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے مظاہروں میں شرکت کی —فوٹو: عمر باچا

صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کوہستان میں ضلع کولائی پالس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (ای ڈی او) نواب علی کے قتل کے خلاف طلبہ، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔

شانگلہ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی کال پر نواب کے آبائی ضلع شانگلہ سمیت خیبرپختونخوا بھر میں احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔

واضح رہے کہ نواب علی کو ہفتے کو مبینہ طور پر ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا تھا۔

ان کے قتل پر پالس کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) محمد حفیظ نے ڈان کو بتایا کہ نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ مقتول کے اہل خانہ کی درخواست پر اس کیس میں مانسہرہ سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) عاشق حسین کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنائی گئی ہے، جو اس کیس کی تحقیقات کرے گی۔

مزید پڑھیں: پشاور میں ڈاکٹروں کا احتجاج، پولیس کی کارروائی، متعدد افراد زخمی

علاوہ ازیں قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بشام کے علاقے میں قراقرم ہائی وے کو 2 گھنٹے تک بند کردیا گیا، مظاہرین کی جانب سے ایم پی اے مفتی عبید الرحمٰن، پولیس، کولائی پالس کی ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور ان پر قتل کیس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔

اس موقع پر مظاہرے میں موجد طلبہ اور اساتذہ سے خطاب میں مقررین نے حکومت سے واقعے میں ملوث افراد سمیت پولیس سربراہان، مفتی عبیدالرحمٰن اور ڈپٹی کمشنر کو نواب علی کی موت میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

تمام معاملے پر مقتول ایجوکیشن افسر کے قریبی دوست اور رشتے دار سلیمان خان نے دعویٰ کیا کہ نواب علی نے مقامی ایم پی اے کی سفارش پر کلاس 4 کے 14 عہدیداروں کو بھرتی کیا تھا جس پر مخالف گروہ ان تقرر کے حکم نامے کے خلاف تھے۔

مظاہرین کی جانب سے کولائی پالس کوہستان کی ضلع کی حیثیت ختم کرنے کرنے کے لیے قرارداد پاس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک علاقہ جہاں افسران کو قتل کردیا جائے وہ ضلع کی حیثیت رکھنے کا مستحق نہیں۔

علاوہ ازیں لوئر کوہستان میں پتن، شانگلہ، پورن، چکیسر، شاہاپور، مارتنگ، کرورا، دھیری، الپوری، دندائی اور دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں اسکولز اور کالجز میں بھی احتجاج کیا گیا، سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبہ اور اساتذہ نے ڈی ای او کے لیے دعائیں کیں اور تمام سرکاری اسکولوں میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔

ادھر شانگلہ ٹیچرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کل (15 اکتوبر) کو یوم سیاہ منایا جائے گا اور اسکولز بند رہیں گے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ایلیمنٹری اور سیکینڈری ایجوکیشن ضیا اللہ بنگش نے چکیسر میں مقتول ایجوکیشن افسر کے گھر کا دورہ کیا اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں ڈاکٹرز کا احتجاج ناکام بنانے کے لیے پولیس کا ایکشن

انہوں نے اہل خانہ کو یقین دہانی کراوئی کہ وہ جے آئی ٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وزیراعلیٰ نے سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ 48 گھنٹوں میں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جائے۔

ساتھ ہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے پولیس کو بھی ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کو دیکھیں اور جلد از جلد ملوث افراد کو گرفتار کریں۔

ڈی ای او کی موت

واضح رہے کہ ایس ایچ او محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ نواب علی کی موت کی اطلاع کے بعد پولیس ڈی ای او افسر پر پہنچی جہاں ان کی لاش اور ایک گولی ملی، اس کے علاوہ ان کے دفتر کے باہر بھی ایک اور گولی برآمد ہوئی۔

تحصیل کے سابق کونسل اور ڈی ای او کے کزن شوکت علی کا کہنا تھا کہ نواب کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ کون انہیں دھمکیاں دے رہا۔

شوکت علی کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ جے آئی ٹی بہتر طریقے سے ان کے کیس کی تحقیقات کرے گی اور قصورواروں کو گرفتار کرے گی۔