پولیس ’فورس‘ ہے یا پھر ’سروس‘؟

17 اکتوبر 2019

ای میل

اے ٹی ایم مشین سے پیسے چرانے والے ملزم کی دورانِ تفتیش ہلاکت کے بعد پولیس میں اصلاحات ایک دفعہ پھر موضوع بحث چکی ہے۔ اس حوالے سے تو بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے تاہم کچھ بنیادی سوال آج بھی جواب طلب ہیں۔

ان سوالات میں اہم ترین یہ کہ پولیس ’فورس‘ ہے یا پھر ’سروس‘؟

یہ جاننے کے لیے کہ انگریز کے زمانے کی فعال ترین پولیس آج کیوں زبوں حالی کا شکار ہے، میں نے متعدد اعلیٰ اور جونیئر پولیس افسران سے طویل نشستیں کیں اور اہلکاروں سے اس حوالے سے پوچھا۔

پولیس افسران کے مطابق پولیس کے ڈھانچے کی بنیاد ہی استحصال پر ہے۔ ایس ایچ او، پٹواری اور ڈپٹی کمشنر پر مبنی یہ نظام خاص طور پر محکوم قوموں کے لیے وضع کیا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ برِصغیر پاک و ہند میں تعینات افسران کو وطن واپس پہنچنے پر کوئی عہدہ دینے کے بجائے ریٹائر کردیا جاتا تھا۔

اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف جنرل سر فرینک والٹر میسروی اور دوسرے جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی دونوں کو برطانیہ پہنچنے پر ریٹائر کردیا گیا تھا، حالانکہ جنرل گریسی نے برطانوی راج سے وفاداری میں قائدِاعظم کے حکم کے باوجود کشمیر میں فوج نہیں بھیجی تھی۔ انگریز کے جانے کے بعد آنے والوں نے سسٹم میں متعدد ترامیم تو کیں مگر نظام کا استحصالی عنصر دُور ہونے کی بجائے مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

متعدد افسران سی ایس پی اور رینکر کی تقسیم کو خرابی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک مانتے ہیں۔ پولیس میں سپاہی یا اے ایس آئی سے ترقی پانے والے افسران کو خاکی کہا جاتا ہے۔ جبکہ سی ایس ایس کرکے آنے والے افسران نوری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سی ایس ایس افسران کو اکیڈمی میں اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم جونیئر افسروں یا اہلکاروں کی ٹریننگ کے دوران بنیادی توجہ پی ٹی پریڈ پر ہی مرکوز رہتی ہے۔

پھر پوسٹنگ کے بعد نوری دفاتر تک محدود ہوجاتے ہیں، جبکہ معاملات چلانے کی ذمہ داری غیر تربیت یافتہ خاکی افسران کے کاندھوں پر آن پڑتی ہے۔

ایک سینئر ڈی ایس پی کے مطابق ’آبادی میں بے پناہ اضافے، دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی اور جرائم میں جدت کے باعث انگریز دور کی طرح علاقے میں ہونے والے ہر جرم کی ساری ذمہ داری تھانے دار پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ انگریز دور سے تھانے میں سپاہی کا ایک مستقل عہدہ ہوتا تھا جسے ڈی ایف سی کہا جاتا تھا۔ اس پیادہ کانسٹیبل کا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے اور آس پاس کے علاقے میں لوگوں سے گہرے روابط رکھے۔ ایک تھانے میں بیسیوں سال گزارنے والے ان اہلکاروں کو پتہ ہوتا تھا کہ کس گاؤں میں باہر سے کونسے مہمان آئے اور کس وقت کہاں گئے۔

’اسی طرح ہر تھانے میں انفارمر یا جاسوس ہوا کرتے تھے جو تھانے دار کو ہمہ وقت باخبر رکھتے تھے۔ کھوجی تھے جو کمال مہارت سے کسی بھی چور یا قاتل تک پہنچ جاتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ تینوں تھانوں سے غائب ہوگئے ہیں۔ ڈی ایف سی کا عہدہ آج بھی ہے مگر تواتر سے تبادلوں کے باعث اس کی افادیت ختم ہوچکی ہے۔‘

انگریز دور میں کسی وقوعہ کے بعد پولیس جائے وقوعہ سے ملنے والی شہادت کی بنیاد پر ملزم کی جانب تفتیش کرتی تھی، لیکن آج ملزم سے شہادت کی جانب تفتیش کی جاتی ہے۔ کسی بھی واقعے کے بعد ایس ایچ او پر دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ شک کی بنیاد پر کسی بھی ملزم کو پکڑ کر اپنی گلو خلاصی کراتا ہے۔

ایک گاؤں میں اگر کسی نے پستول تان کر ایک پیٹرول پمپ سے 100 روپے بھی لوٹ لیے تو وہ بھی مسلح ڈکیتی ہے۔ واردات ہوتے ہی آئی جی سب سے پہلے ایس پی کو شوکاز نوٹس جاری کردے گا کہ اس کے علاقے میں یہ واردات کیوں ہوئی۔ ایس پی فوراً ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرکے سارا ملبہ اس پر ڈال دے گا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ شوکاز نوٹس کسی بھی ایس ایچ او کی محکمانہ ترقی کے مواقع کو غارت کرسکتا ہے۔

پولیس کا سارا نظام تھانے کے سر پر ہے۔ جب ایس ایچ او شک کی بنیاد پر کسی کو اٹھاتا ہے تو اس سے جرم اگلوانے کے لیے تشدد کرتا ہے، اور پھر یہ تشدد بعض اوقات اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ انسانی جان بھی ضائع ہوجاتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے صلاح الدین کی جان ضائع ہوگئی۔

لہٰذا جب تک کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر محض شک کی بنیاد پر کسی کو بھی اٹھا لینے کے پولیس کے اختیارات میں ترمیم نہیں کی جاتی تب تک بے گناہوں پر تشدد اور اموات کو نہیں روکا جاسکتا۔

پولیس میں خرابی کی ایک اہم وجہ ہمارے معاشرتی رویے بھی ہیں۔ ہمارے شہرت کے حصول کے شوقین معاشرے میں پولیس میں بھرتی ہوتے ہی لوگوں کا رویہ اور توقعات بڑھ جاتے ہیں۔ روایتی طور پر اچھا پولیس والا مانا ہی اسے جاتا ہے جو کھائے چنگا اور بولے مندا۔ یعنی کھائے کھلائے اور گالی گلوچ سے بات کرے۔

سی ایس ایس افسر پر تو دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے جو گھر سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ماں، باپ، بیوی، بچوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے تقاضے محض تنخواہ میں بھلا کہاں پورے ہوتے ہیں۔

پولیس کو کمزوروں کے لیے سروس جبکہ جرائم پیشہ افراد کے لیے فورس ہونا چاہئے تاہم سیاسی بھرتیوں اور بے جا سیاسی مداخلت نے پولیس کو عوام کے لیے فورس جبکہ مجرمان کے لیے سروس بنا دیا ہے۔

رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوئی جب دوسرے ریاستی اداروں نے پولیس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ جونیئر افسران شاکی ہیں کہ وقتاً فوقتاً ہونے والی اصلاحات کے نتیجے میں افسران بالا کے دفاتر تو پُرتعیش اور جدید دور سے ہم آہنگ ہوتے گئے تاہم تھانہ جو پورے نظام کی بنیاد ہے آج بھی دقیانوسی طریقوں پر چلایا جارہا ہے۔

تھانے کا رجسٹر، روزنامچہ آج بھی تھانے کی صفائی کے اندراج سے شروع ہوتا ہے۔ ملازمین 20، 20 گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں، مگر ان کے خاندان کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کا بھی کوئی انتظام نہیں۔

پھر حد تو یہ ہے کہ ناکافی بجٹ کے باعث اکثر تھانوں کے روزمرہ اخراجات سائلین سے ہی پورے کیے جاتے ہیں۔ پولیس افسران متفق ہیں کہ 2002ء کی اصلاحات میں تفتیش اور واچ اینڈ وارڈ کو علیحدہ کرنے کے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ معاملات تفتیشی عملے تک پہنچنے سے پہلے ہی بالا بالا طے کرلیے جاتے ہیں۔

پولیس میں بہتری کے لیے یہ بے حد ضروری ہوچکا ہے کہ نچلے عملے کو ناصرف ان کے اختیارات کے مطابق مراعات اور تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ انہیں جدید تفتیشی طریقوں سے روشناس بھی کروایا جائے۔ ای روزنامچہ تو واٹس ایپ پر بنا کسی اضافی فنڈ شروع کیا جاسکتا ہے۔

جرائم کی روک تھام، قانون، کمپیوٹر سائبر کرائم اور تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تمام عملے کو تربیت فراہم کرکے اس کو تھانے کی سطح پر رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ماڈل تھانے کا تصور کامیاب رہا ہے۔ ہر تھانے میں ماڈل تھانے کی طرز پر فرنٹ ڈیسک بنا کر اگر تعلیم یافتہ عملہ سائلین کی فریاد ہمداردانہ انداز میں سن کر ان کی داد رسی کرے تو یہ پولیس نظام میں بہتری کی جانب پہلا قدم ہوگا۔