سرحد پر بھارت اور بنگلہ دیشی فورسز میں جھڑپ، بھارتی اہلکار ہلاک

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

بنگلہ دیشی فورسز کا کہنا ہے گرفتار ماہی گیر کو رہا کردیا جائے گا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
بنگلہ دیشی فورسز کا کہنا ہے گرفتار ماہی گیر کو رہا کردیا جائے گا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

بنگلہ دیش کی جانب سے بھارتی ماہی گیر کو گرفتار کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں بھارت کا ایک گارڈ ہلاک ہوگیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) کا کہنا تھا کہ بھارت کے بارڈر گارڈز نے زیر حراست ماہی گیر کو ہمارے قبضے سے چھڑانے کے لیے فائرنگ کی، جس پر ہم نے اپنے دفاع میں فائر کیا۔

بھارتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے بھارت کا ایک گارڈ زخمی بھی ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ماہی گیر کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ کیونکہ وہ سرحد کے قریب دریائے پدما میں شکار کررہے تھے جہاں بنگلہ دیش نے مچھلی کے شکار پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے روہنگیا خاتون جاں بحق

بنگلہ دیشی فورسز کے ترجمان شریف الاسلام کا کہنا تھا کہ ‘سرحد پر جمعے کو صورت حال معمول کے مطابق تھی اور ہمارے اہلکاروں کو کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے’۔

بنگلہ دیشی عہدیداروں کا کہنا تھا دونوں فریقین معاملے پر تفتیش کے لیے متفق ہوچکی ہیں اور زیرحراست ماہی گیر کو ملاقات کے دوران رہا کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان قریبی تعلقات ہیں اور حال ہی میں جب بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نئی دہلی کے دورے پر آئی تھیں تو کئی معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی ریاست آسام میں 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم کردیے گئے

بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سرحد 4 ہزار کلومیٹر سے زائد علاقے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں پناہ گزینوں کے معاملے پر وقفے وقفے سے تصادم ہوتا رہتا ہے جس پر بھارت کا موقف ہے کہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی مہاجرین داخل ہوتے ہیں۔

بھارت نے گزشتہ ماہ ریاست آسام میں شہریت کا نیا قانون متعارف کروایا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دعویٰ کیا تھا کہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ہزاروں مسلمان مہاجرین کے پاس غیر قانونی دستاویزات پیش کی ہیں۔

آسام میں 19 لاکھ افراد شہریت سے محروم ہوگئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔