امریکا جانے کے خواہشمند 311 بھارتی میکسیکو سے بےدخل

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2019

ای میل

نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر میکسیکو سے واپس آئے بھارتی شہری — فوٹو: اے ایف پی
نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر میکسیکو سے واپس آئے بھارتی شہری — فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: ایک خاتون سمیت 311 بھارتی شہریوں کو میکسیکو کے امیگریشن حکام نے امریکا جانے کے لیے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے پر بےدخل کردیا۔

بھارتی نشریاتی ادارے ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو کے حکام نے 311 بھارتیوں کو چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے بھارت واپس بھیج دیا۔

امریکا جانے کا خواب لیے لاکھوں روپے خرچ کرکے جنگلات اور دیگر مشکل ترین راستوں سے گزر کر سفر کرتے ہوئے میکسیکو پہنچنے والے بھارتیوں کے خوابوں کو جہاز کے ذریعے بھارت کے دارالحکومت پہنچادیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت سے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کردیا جائےگا، وزیر داخلہ

ملک بدر ہونے والے جشن پریت سنگھ کا کہنا تھا کہ 'ہم 5 بجے صبح پہنچے اور قانونی کارروائی میں متعدد گھنٹے لگ گئے اور ہم ایئرپورٹ سے ایک بجے باہر آئے'۔

زیادہ تر ملک بدر ہونے والے افراد کا تعلق پنجاب اور ہریانہ سے تھا۔

میکسیکو کے نیشنل امیگریشن انسٹی ٹیوٹ (آئی این ایم) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق بھارتی شہریوں کے پاس ملک میں رہنے کے لیے کوئی دستاویزات نہیں تھے جس کی وجہ سے انہیں تولوکو سٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بوئنگ 747 طیارے کے ذریعے نئی دہلی روانہ کردیا گیا۔

پٹیالا سے جون کے مہینے میں امریکا جانے کا خواب لیے چلنے والے 19 سالہ مندیپ سنگھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے سفر کے دوران 7 ممالک کا سفر کیا جس میں پہلا اسٹاپ ایکواڈور تھا اور آخری اسٹاپ میکسیکو تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پاناما کے گھنے جنگلوں میں 7 روز تک پیدل سفر کیا اور بالآخر 12 ستمبر کو ہم میکسیکو پہنچے تھے اور امریکا سے صرف 800 کلومیٹر دور تھے تاہم میکسیکو کے حکام نے ہمیں پکڑ کر بھارت واپس بھیج دیا'۔

یہ بھی پڑھیں: 2018 میں بیرون ملک مقیم 80 ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا، رپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ دوران سفر انہوں نے کئی لوگوں کی لاشیں دیکھیں جو ان کے مطابق غیر قانونی ہجرت کے لیے پاناما جنگلات سے گزرتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

22 سالہ ساحل ملک کا کہنا تھا کہ وہ 5 جون کو دہلی سے ایکواڈور گئے تھے اور ٹرانسپورٹ کے مختلف طریقوں سے میکسیکو پہنچے تھے اور زیادہ تر سرحدیں انہوں نے بسوں میں پار کی تھیں۔

واضح رہے کہ جون کے مہینے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کو ان کی سرحد سے امریکا میں داخل ہونے والے افراد کو نہ روکنے پر ان کی مصنوعات پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

میکسیکو نے اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔