حمل سے متعلق میڈیا کوریج پر پریشانی ہوئی، میگھن مارکل

20 اکتوبر 2019

ای میل

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے گزشتہ برس مئی میں شادی کی تھی—اسکرین شاٹ
شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے گزشتہ برس مئی میں شادی کی تھی—اسکرین شاٹ

حال ہی میں برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن اپنے پہلے پانچ روزہ تاریخی دورے پر پاکستان آئے تھے۔

تاہم شہزادہ ولیم سے قبل ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ شہزادی میگھن مارکل افریقا کے تاریخی دورے پر گئے تھے، جہاں وہ مقامی افراد میں گھل مل گئے تھے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے افریقی دورے کو بھی شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کے پاکستانی دورے جیسی کوریج ملی اور عالمی میڈیا نے ان کے دورے کو اہم خبر کے طور پر شائع کیا۔

جس طرح کیٹ مڈلٹن نے پاکستانی دورے کے دوران ’سی این این‘ کو مختصر ٹی وی انٹرویو دیا تھا، اسی طرح میگھن مارکل نے بھی افریقی دورے کے دوران ’آئی ٹی وی‘ کو انٹرویوز دیے اور ان کے انٹرویوز پر مبنی ایک دستاویزی فلم بنائی گئی جسے 20 اکتوبر کو نشر کیا گیا۔

میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری گزشتہ ماہ افریقی دورے پر گئے تھے—فوٹو: اے ایف پی
میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری گزشتہ ماہ افریقی دورے پر گئے تھے—فوٹو: اے ایف پی

برطانوی ٹی وی چینل ’آئی ٹی وی‘ پر نشر کی گئی میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی دستاویزی فلم دراصل ان کے افریقی دورے اور ان کے انٹرویوز پر مبنی تھی۔

دستاویزی فلم میں پہلی بار میگھن مارکل نے اپنی شادی اور حمل سے ہونے کے بعد بچے کی پیدائش سے ہونے والے مسائل اور میڈیا کی حد سے زیادہ کوریج پر کھل کر بات کی۔

دستاویزی فلم میں میگھن مارکل نے اعتراف کیا کہ ان کی شادی کو میڈیا نے حد سے زیادہ کوریج دی اور ان کی ہر ایک ادا اور حرکت پر نظر رکھی گئی۔

میگھن مارکل کا کہنا تھا کہ اسی طرح ان کے حاملہ ہونے کی خبر کو بھی غیر معمولی انداز میں لیا گیا اور ان کے حمل سے متعلق ہر خبر کو بہترین کوریج کے ساتھ پیش کیا گیا، جس سے وہ ذہنی مسائل میں الجھ گئیں۔

میگھن مارکل نے افریقی خواتین کے ساتھ روایتی رقص بھی کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
میگھن مارکل نے افریقی خواتین کے ساتھ روایتی رقص بھی کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی

میگھن مارکل نے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ حمل سے متعلق میڈیا کی حد سے زیادہ کوریج اور بچے کی پیدائش سے متعلق معمولی سی معمولی خبر کی کوریج پر انہیں ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔

میگھن مارکل کے مطابق بطور حاملہ خاتون وہ پہلے ہی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں اور انہیں ایسے وقت میں بہت احتیاط کی ضرورت تھی، تاہم انہیں میڈیا کوریج کی وجہ سے ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کسی میڈیا گروپ کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں شادی کرنے، حاملہ ہونے اور بچے کی پیدائش کے وقت میڈیا کوریج سے بچنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی، تاہم پھر بھی وہ ڈپریشن کا شکار ہوئیں۔

اسی دستاویزی فلم میں میگھن مارکل کے شوہر شہزادہ ہیری نے بھی میڈیا کی حد سے زیادہ کوریج پر بات کرنے سمیت اپنی والدہ کی موت اور ان کی میڈیا کوریج پر بھی بات کی۔

انہوں نے بھی میڈیا کوریج کو غیر معمولی قرار دیا۔

اس دستاویزی فلم سے قبل ہی میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری نے برطانوی اخبارات ’میل آن سنڈے، ڈیلی مرر اور دی سن‘ کے خلاف جھوٹی خبریں شائع کرنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے گزشتہ ماہ اپنے افریقی دورے کے دوران حد سے زیادہ اور غلط میڈیا کوریج پر تینوں برطانوی اخبارات کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

برطانوی میڈیا نہ صرف شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل بلکہ تمام شاہی خاندان کے افراد کی حد سے زیادہ میڈیا کوریج کرتا ہے اور آئے دن ان سے متعلق کوئی نہ کوئی سنسنی خیز خبر برطانوی میڈیا کا حصہ ہوتی ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کی گزشتہ برس مئی میں شادی ہونے پر بھی برطانوی میڈیا میں سنسنی خیز خبریں شائع ہوئی تھیں، کیوں کہ میگھن مارکل کا تعلق برطانیہ نہیں بلکہ امریکا سے ہے اور وہ ماضی میں اداکارہ رہ چکی ہیں اور ان کی پہلے طلاق بھی ہو چکی تھی۔

اسی طرح ان کے حمل سے متعلق بھی ہر آئے دن برطانوی میڈیا میں چہ مگوئیاں ہوتی رہیں اور رواں برس ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش کے حوالے سے بھی سنسنی خیز خبریں میڈیا میں شائع ہوئیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on