اسلام آباد سے جے یو آئی (ف) کے 2 کارکن گرفتار

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2019

ای میل

کارکنان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا—تصویر: ڈان نیوز
کارکنان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا—تصویر: ڈان نیوز

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کے اعلان کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اسلام آباد کے تھانہ شمس کالونی میں جے یو آئی (ف) کے 2 کارکنان کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس کے مطابق مولانا شفیق الرحمٰن اور مولانا محمد ارشاد آزادی مارچ اور دھرنے کے سلسلے میں بینرز لگا رہے تھے اور عوام کو احتجاج میں شرکت کرنے کے لیے اکسا رہے تھے۔

پولیس کے پہنچنے پر دیگر افراد فرار ہوگئے تاہم مندرجہ بالا دونوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے بینرز اور سیڑھی بھی برآمد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: انتظامیہ 'آزادی مارچ' میں احتجاج کرنے اور نہ کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرے، ہائیکورٹ

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کیا جس پر تھانہ شمس کالونی نے مقدمہ درج کر کے گرفتار افراد کی مدد سے مزید چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

’آزادی مارچ’ کے لیے پولیس کی تیاریاں

قبل ازیں پولیس افسران نے بتایا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے 550 سے زائد شپنگ کنٹینرز کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے۔

افسران نے یہ بھی بتایا تھا کہ راولپنڈی سے آئی۔جی پرنسل روڈ سے منسلک ہونے والی تمام سڑکوں کو سیل کیے جانے کا امکان ہے اور یہ اقدام مارچ میں شریک ہونے والے یا دارالحکومت میں جمع ہونے والے لوگوں کو روکنے کے لیے کیا جائے گا۔

افسران کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے مقامی تاجروں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے آزادی مارچ کے منتظمین یا شرکا کے ساتھ کوئی کاروبار کیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: آزادی مارچ: باوردی فورس بنا کر ڈنڈے لہرانے پر کارروائی ہوگی

ان تاجروں میں کھانا پکانے والی سروسز، ٹینٹ سروس، ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاؤسز اور سرائے خانے، جنریٹرز، ورکشاپس، ہارڈویئر اسٹورز، ویلڈنگ ورکشاپس، ساؤنڈ سسٹم سروسز، کھدائی کرنے والے اور کرین مالکان شامل ہیں۔

اس سلسلے میں اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کی جانب سے اپنی حدود میں موجود تاجروں کو تحریری وارننگ بھی جاری کی گئی اور کہا گیا کہ تاجر دھرنے کے مظاہرین کے ساتھ ڈیل کرنے یا انہیں سروسز، معاونت یا سامان فراہم نہیں کریں گے بصورت دیگر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

جے یو آئی (ف) کا ’آزادی مارچ‘

واضح رہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکتھی ہے، جس کا مقصد اکتوبر میں 'جعلی حکومت' کو گھر بھیجنا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ 'حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ مستعفی ہوکر گھر چلی جائے اور اگر یہ خود نہیں جاتے تو ہم ان کو گھر بھیجیں گے'۔

ابتدائی طور پر اس احتجاج جسے 'آزادی مارچ' کا نام دیا گیا تھا، اس کی تاریخ 27 اکتوبر رکھی گئی تھی لیکن بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکا 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ احتجاج کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمٰن متحرک

تاہم 11 ستمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر ان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب دھرنے میں شرکت کے حوالے سے مرکزی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کے درمیان بھی اختلافات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

بعدازاں 18 اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے حکومت کے خلاف 'آزادی مارچ' کی حمایت کرتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا۔

ادھر حکومت نے اسی روز اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے کہا تھا کہ استعفے سے پہلے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے لیکن ان کی جماعت کے رہنما نے کہا تھا کہ جماعت نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سے حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی اطلاعات سامنے آنے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں ایک پی پی پی عہدیدار نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت پر پی پی پی کو اعتماد میں نہیں لیا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ جے یو آئی (ف) کا فیصلہ اپوزیشن کے مشترکہ اعلامیے کی خلاف ورزی ہے۔

پی پی پی کی جانب سے تحفظات اور ناراضگی کا اظہار کیے جانے کے بعد مولانا فضل الرحمٰن، پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے اور حکومتی کمیٹی سے مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔