آمدن سے زائد اثاثے: پی پی رہنما خورشید شاہ مزید 15 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2019

ای میل

خورشید شاہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز
خورشید شاہ کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

سکھر کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کردی۔

سکھر کی احتساب عدالت میں جج امیر علی مہیسر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی، اس دوران پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو پیش کیا گیا۔

اس موقع پر عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ پولیس کی بڑی تعداد عدالت کے اطراف میں موجود تھی۔

سماعت کے آغاز پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خورشید شاہ تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، ان سے جو سوال کیا جاتا ہے اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ میرے نہیں خاندان کے اثاثے ہیں، اس کے علاوہ ان کے گھر کے افراد بھی نیب سے تعاون نہیں کر رہے، ان کے صاحبزادے فرخ شاہ کو طلب کیا گیا تھا مگر وہ بھی پیش نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ گرفتار

انہوں نے بتایا کہ نیب کی نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خورشید شاہ کا سائٹ ایریا سکھر میں بھی 2 ایکڑ کا پلاٹ ہے اور ایک پلاٹ سائیٹ ایریا کراچی میں بھی ہے، لہٰذا نیب ان سے مزید تحقیقات کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے مزید 15 روز کا ریمانڈ دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ پہلاج مل خورشید شاہ کا کاروباری شراکت دار ہے، بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی پی رہنما کے فرنٹ مین اکرم خان کے اکاؤنٹ سے 25 لاکھ روپے خورشید شاہ کے 2 اکاؤنٹس میں منتقل ہوئے۔

دوران سماعت انہوں نے مزید بتایا کہ خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے، نیب قانون کے مطابق گرفتار ملزم خود نیب کے الزامات کے خلاف ثبوت فراہم کرتا ہے۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے پہلاج مل کے خورشید شاہ کے کاروباری شراکت دار ہونے کے دستاویزات بھی پیش کیے، جس پر خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی نے مخالفت کی اور کہا کہ ان کے موکل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، پہلاج مل کے خورشید شاہ کے کاروباری شراکت دار ہونے کے جو کاغذات پیش کیے گئے ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اس معاہدے کو جب قانونی حیثیت حاصل ہوگی تو اس کی عدالت میں توثیق بھی کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے سائٹ ایریا میں پلاٹ کے لیے درخواست دی ہے لیکن اب تک انہیں پلاٹ ملا نہیں جبکہ پہلاج مل نے بھی خود نیب میں پیش ہوکر بیان دیا تھا کہ وہ خورشید شاہ کے کاروباری شراکت دار نہیں ہیں، ایسا ہی بیان اکرم خان بھی دے چکے ہیں۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ نیب، خورشید شاہ سے اپنی مرضی کا اعتراف کرانا چاہتا ہے جو آئین کے آرٹیکل بی 30 کی خلاف ورزی ہے، لہٰذا عدالت ان کا مزید ریمانڈ دینے کے بجائے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے۔

دوران سماعت عدالت میں این آئی سی وی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قمر کی جانب سے خورشید شاہ کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ خورشید شاہ 20 برس سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، ان کی زندگی کو خطرہ ہے، انہیں این آئی سی وی ڈی منتقل کیا جائے کیونکہ انہیں سانس لینے میں دشواری سمیت بلڈ پریشر کا بھی مسئلہ ہے، لہٰذا ان کا ہسپتال منتقل ہونا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی حراست میں خورشید شاہ کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل

بعد ازاں عدالت کے جج نے دونوں وکلا کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے مزید ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کا مزید 15 روز کا ریمانڈ دے دیا۔

ساتھ ہی انہیں دوبارہ 4 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ 18 ستمبر کو قومی احتساب بیورو نے قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کرلیا تھا۔

خورشید شاہ کے خلاف انکوائری

خیال رہے کہ 31 جولائی کو نیب نے رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اگست میں تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔

پی پی پی رہنما پر ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلاحی پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے جبکہ بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اپنے فرنٹ مین یا ملازمین کے نام پر بے نامی جائیدادیں بھی ہیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ کے خلاف انکوائری میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے) اور شیڈول کے تحت بیان کردہ جرائم کے کمیشن میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اگست میں احتساب کے ادارے نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر مبینہ کرپشن کے ذریعے 500 ارب روپے سے زائد کے اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پی پی پی کے رہنما نے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں 105 بینک اکاؤنٹس موجود ہیں، اس کے علاوہ پی پی رہنما نے اپنے مبینہ فرنٹ مین ’پہلاج مل‘ کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 83 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ان دستاویز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے پہلاج رائے گلیمر بینگلو، جونیجو فلور مل، مکیش فلور مل اور دیگر اثاثے بھی بنا رکھے ہیں۔

اس ضمن میں مزید بتایا گیا تھا کہ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنائیں۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس: خورشید شاہ کے ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے اپنے مبینہ ’فرنٹ مین‘ کے لیے امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کے لیے الاٹ کرائی، اس کے علاوہ خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں مبینہ طور پر عمر جان نامی شخص کا بھی مرکزی کردار رہا جس کے نام پر بم پروف گاڑی رجسٹرڈ کروائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی۔

اس کے علاوہ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں خورشید شاہ کا زیر استعمال گھر بھی عمر جان کے نام پر ہے اور سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے۔

نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ادارے نے خورشید شاہ کی رہائشی اسکیموں، پیٹرول پمپز، زمینوں اور دکانوں سے متعلق تفصیلات بھی حاصل کرلیں ہیں۔

یاد رہے کہ خورشید شاہ بھی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، مریم نواز اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت اپوزیشن رہنماؤں کی اس طویل فہرست میں شامل ہوگئے، جو کرپشن کے الزامات پر زیر حراست یا ضمانت پر ہیں۔