مرض کی تشخیص کے بعد نواز شریف کو پی کے ایل آئی لے جانے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2019

ای میل

ڈاکٹر کے مطابق یہ قابل علاج مرض ہے اور نوازشریف کا علاج شروع کردیا گیا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈاکٹر کے مطابق یہ قابل علاج مرض ہے اور نوازشریف کا علاج شروع کردیا گیا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

سروس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے پرنسپل ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) اور پی ای ٹی اسکین کے لیے ریسرچ سینٹر میں داخل کیا جائےگا۔

واضح رہے کہ پی ای ٹی اسکین کے ذریعے نواز شریف کے خلیے اور اعضا سے متعلق مزید تفصیلات معلوم کی جاسکے گی۔

ڈاکٹر محمود ایاز نے یہ نہیں بتایا کہ نواز شریف کو کب پی کے ایل آئی لے کر جایا جائے گا۔

مزیدپڑھیں: وزیراعظم عمران خان کی نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت

علاوہ ازیں ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے از خود پی کے ایل آئی جانے سے انکار کردیا۔

بعدازاں ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی صحت پہلے بہتر ہورہی ہے اور ان کے خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد میں 20 ہزار تک کا اضافہ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کا بون میرو کام کررہا ہے۔

لیگی قیادت کا نواز شریف کی صحت پر تشویش

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نوازشریف کی صحت کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نوازشریف علاج کے لیے باہر گئے تو ان کاذاتی معاملہ ہوگا، رائے یا پریشر سے نوازشریف کو پریشانی نہیں دینا چاہتے۔

ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کا شیڈول نوازشریف کی بیماری کے باوجود قائم و دائم ہے، پارٹی اپنے قائد کے حکم پر مکمل عمل کرے گی اور جمعیت علمائے اسلام کی آزادی مارچ میں شیڈول کے مطابق شریک ہوگی۔

مزیدپڑھیں: ڈاکٹرز نے نواز شریف کے خون کی ٹیسٹ رپورٹس غیرتسلی بخش قرار دے دیں

ماڈل ٹاون میں مشاورتی بیٹھک کے بعد خواجہ آصف نے بتایا کہ قانونی عدالتی جنگ جاری رہے گی

خواجہ آصف نے کہا کہ نوازشریف کی صحت کا معاملہ گھمبیر ہے اللہ نوازشریف کو شفا دے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے سامنے کہن چاہتا ہوں کرپشن کا کیس'الزام یا فیصلہ' نہیں جبکہ فلیٹس یا پیسوں سے نوازشریف کاکوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی صحت کے معاملے پر حکومت نے غیر سنجیدگی دکھائی جسے کبھی نہیں بھولیں گے۔

علاوہ ازیں احسن اقبال نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو سوئے ہوئے اٹھا کر کہا جاتا ہے کہ آپ کی بیٹی مریم نواز کو واپس کوٹ لکھپت جیل لے جارہے ہیں۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

احسن اقبال کاکہنا تھا کہ نوازشریف پر ذہنی دباو زہر قاتل ہےحکمرانوں کی چھوٹی سوچ پر افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا مریم نواز کو صبح جیل واپس نہ بھیجا جاتا تو کون سی پاک بھارت جنگ چھڑ جاتی۔

نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص، 'خلیات بنانے کا نظام خراب'

میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مرض کی ابتدائی تشخیص کرلی جس میں انہیں خلیات بنانے کا نظام خراب ہونے کا مرض لاحق ہے۔

پروفیسر محمود ایاز کے مطابق خلیات بنانے کا نظام خراب ہونے سے خون میں پلیٹلیٹس کم ہوجاتے ہیں اور قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کو امیون تھرمبو سائیٹوپینیا کا مرض لاحق ہے جس کی وجہ سے خون میں پلیٹلیٹس میں فوری کمی آجاتی ہے۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کی طبیعت ناساز، نیب دفتر سے سروسز ہسپتال منتقل

ان کا کہنا تھا کہ یہ قابل علاج مرض ہے، نوازشریف کا علاج شروع کردیا گیا۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ عمران خان نے سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ حکومت پنجاب سے طلب کر لی ہے۔

خون میں پلیٹلیٹس کا کردار

جسم میں پلیٹلیٹس خون کے اندر گردش کرتے پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے زرات ہوتے ہیں جن کے گرد جھلی ہوتی ہے۔

پلیٹلیٹس کا کام جسم سے خون انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔

پلیٹلیٹس خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں اور کہیں بھی زخم یا خراش لگنے کی ضرورت میں وہاں جمع ہو کر خون کے انخلا کو روک لیتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کی پلیٹلیٹس کی غیرموجودگی سے دماغ میں خون جمع ہوجاتا ہے جس کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور برین ہیمرج بھی ہوسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ میں ردوبدل پر چغتائی لیب کی وضاحت

صحت مند جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد ایک لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ ہوتے ہیں جس سے ہڈی کا گودا ضرورت کے مطابق بنتا رہتا ہے

انسانی جسم میں 10 سے 25 ہزار گر جائیں تو زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہوتی لیکن اگر ان کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ جائے تو خون کے انخلا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پلیٹلیٹس کی کمی کے باعث انفکیشن، گردوں کی بیماری، ادویات کے اکثریت یا جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی سے ہوسکتی ہے۔

طبی ماہرین کی رائے کے مطابق پلیٹلیٹس کی کمی کےباعث دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

نواز شریف کی خرابی صحت

یاد رہے کہ پیر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔

سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے گزشتہ روز سروسز ہسپتال میں اپنے بھائی کی عیادت کی اور بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام طور پر پلیٹلیٹس ڈیڑھ سے 4 لاکھ تک ہوتے ہیں لیکن نواز شریف کے پلیٹلیٹس کم ہوکر صرف 15 ہزار تک پہنچ گئے تھے، نواز شریف کے خون کے خلیات میں خطرناک حد تک کمی اور اس کی اطلاع نہ دینا بدترین غفلت ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اپنے قائد کی خراب صحت کے حوالے سے ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے حکومت پر مجرمانہ غفلت برتنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر سابق وزیراعظم کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم عمران احمد نیازی ہوں گے۔