نوازشریف کو ضمانت نہیں مل سکتی،طبی بنیاد پر معاملہ دیکھ رہے ہیں، ہائیکورٹ

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2019

ای میل

نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کے لیے شہباز شریف نے درخواست دائر کی تھی — فائل فوٹو
نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی کے لیے شہباز شریف نے درخواست دائر کی تھی — فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو قانونی طور پر ضمانت نہیں مل سکتی لیکن طبی بنیادوں پر ہم رہائی کی درخواست کو دیکھ رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا معطلی کے لیے شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

اس دوران ایم ایس سروسز ہسپتال ڈاکٹر سلیم چیمہ سمیت دیگر ڈاکٹرز پیش ہوئے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد کی احتساب عدالت کے اس وقت کے جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی، اس کے علاوہ عدالت نے ان پر ڈیڑھ ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جس کے بعد سابق وزیراعظم کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا تھا۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کہاں ہیں؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ نیب کل عدالت میں موجود تھا اور آپ نے حکم بھی دیا تھا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو کینسر نہیں مرض قابل علاج ہے، ڈاکٹر طاہر شمسی

اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر موجود ہیں، لہٰذا معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔

دوران سماعت ڈاکٹر سلیم چیمہ نے نواز شریف کی گزشتہ روز کی میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 9 اراکین کا بورڈ بنایا ہے اور ابھی نواز شریف کی حالت خطرناک ہے، اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے اس رپورٹ میں تشویشناک صورتحال نہیں لکھی، جس پر ڈاکٹر سلیم چیمہ نے کہا کہ رپورٹ کے آخر میں یہ لکھا ہوا ہے۔

ڈاکٹر سلیم چیمہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک نواز شریف کی بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی، پلیٹلیٹس بن رہے ہیں لیکن وہ ضائع بھی ہورہے ہیں۔

اسی دوران شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کے پلیٹلیٹس کم ہونے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔

سماعت کے دوران ڈاکٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ نواز شریف کے کچھ ٹیسٹ کرنے ہیں لیکن وہ صرف صحت کی بہتری پر ہی ہوسکتے ہیں، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا کہ کیا جو آپ علاج کررہے ہیں وہ ابھی تک سب سے بہتر ہے؟

عدالتی استفسار پر ڈاکٹر سلیم چیمہ نے جواب دیا کہ جتنا ممکن ہوسکتا ہے، ہم علاج کر رہے ہیں، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے پھر استفسار کہ کیا نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے، جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اگر فوری علاج نہ ہوا تو نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے۔

دوران سماعت ڈاکٹرز نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی اس صورتحال سے آگاہ ہیں، اس پر جسٹس محسن اختر نے پھر استفسار کیا کہ کیا کوئی خطرہ موجود ہے؟ کیا یہ جان لیوا بیماری ہے؟ جس پر ڈاکٹرز نے جواب دیا کہ اگر علاج نہ ہو تو ایسی ہی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: نواز شریف کی حالت انتہائی نازک ہے، وکیل کا موقف

ڈاکٹرز کے جواب پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہمیں جو سمجھ آرہا ہے وہ یہ ہے کہ متعدد مسائل درپیش ہیں، اس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی ایک طبی تاریخ بھی ہے، ان کے اسٹنٹس بھی ڈل چکے ہیں۔

رہائی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے میڈیکل بورڈ میں جو ڈاکٹرز ہیں، کیا اس میں نواز شریف کی تمام بیماریوں سے متعلق ڈاکٹر موجود ہیں؟ اس پر ڈاکٹر سلیم چیمہ نے جواب دیا کہ جی تمام بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔

اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کہ نواز شریف کو عارضہ قلب اور گردوں کے مسائل بھی ہیں، کیا ان کے ڈاکٹرز بھی دیکھ بھال کر رہے ہیں؟ جس پر وہاں موجود ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام متعلقہ ڈاکٹرز علاج کے لیے ہسپتال میں ہیں۔

ڈاکٹرز نے عدالت کو مزید بتایا کہ پلیٹلیٹس کم ہونے پر خون کے رساؤ (بلیڈنگ) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، نواز شریف کو ابھی ہسپتال میں ہی رکھا جائے گا اور فی الحال سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مریض کا علاج کے حوالے سے مطمئن ہونا بھی ضروری ہے۔

اسی دوران خواجہ حارث نے کہا کہ ٹوتھ برش کرتے ہوئے بھی دانتوں سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے، نواز شریف کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے ڈاکٹرز سے ملک میں یا ملک سے باہر علاج کرائیں، نواز شریف اس وقت جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

اس پر ڈاکٹرز نے کہا کہ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی نواز شریف کے علاج سے مطمئن ہیں۔

بعدازاں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور نیب کی جانب سے موقف بیان کیا۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ اور دوسری لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، ہمیں نوٹس نہیں ملا بلکہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب کیس الگ الگ ہیں تو درخواستیں بھی الگ الگ ہوں گی۔

اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں آپ اور میں نہیں بلکہ ڈاکٹرز بہترین ججز ہیں، طبی علاج کے بارے میں وہ ہی بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں۔

ساتھ ہی خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ وہاں (لاہور ہائی کورٹ میں) الگ کیس میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کی طبی حالت جاننے کے حوالے سے ڈاکٹرز سب سے بہتر ججز ہیں، اگر ممکن ہے تو نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان آجائیں، اس دوران خواجہ حارث نے عدالت میں بتایا کہ باقی ڈاکٹرز حکومت کے لگائے ہوئے ہیں صرف ایک ڈاکٹر عدنان اس میں شامل ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ڈاکٹر سے استفسار کیا کہ سروسز ہسپتال کی کیا صورتحال ہے، جس پر ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ بہت بہتر صورتحال ہے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ میرا ایک تجربہ ہوا لیکن وہ ٹھیک نہیں تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر عدنان سے پوچھ لیا جائے کہ ان کے کیا خدشات ہیں؟ ڈاکٹرز پر ایسا کوئی الزام نہیں لگا رہے کہ بہتر علاج نہیں ہورہا، وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ مرضی کے بہترین علاج کی اجازت ہونی چاہیے، ڈاکٹر عدنان اگر آنا چاہیں تو آجائیں تحریری طور پر بھی لکھ کردے دیں۔

جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیے کہ ہم طبی ماہر نہیں لیکن ڈاکٹر کو بتانا ہوگا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے یا نہیں، ساتھ ہی یہ ریمارکس دیے کہ نواز شریف کو ضمانت قانونی طور پر نہیں مل سکتی تاہم ان طبی صورتحال کے مطابق ہم درخواست کو دیکھ رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کی سزا معطلی سے متعلق درخواست پر سماعت منگل (29 اکتوبر) تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ کو طلب کرتے ہوئے سروسز ہسپتال کے ایم ایس کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے طبی بنیادوں پر سابق وزیراعظم کی سزا معطلی کے لیے درخواست دائر کی تھی اور استدعا کی تھی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک نواز شریف کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

مذکورہ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق پاکستان میں یا بیرونِ ملک علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔

ساتھ ہی درخواست میں چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل نیب کو فریق بنایا گیا جبکہ اس کے ساتھ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری بھی فراہم کی گئی تھی۔

نواز شریف کی خرابی صحت

یاد رہے کہ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی صحت اچانک خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد کے پلیٹلیٹس خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے جس کے بعد انہیں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی گئی تھیں۔

سابق وزیر اعظم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال میں 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کی سربراہی ڈاکٹر محمود ایاز کر رہے ہیں جبکہ اس بورڈ میں سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ گیسٹروم انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اور فزیشن بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں اس میڈیکل بورڈ کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 9 اراکین تک کردیا گیا تھا۔