’شرم کرو عثمان ڈار‘ کا ہیش ٹیگ کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟

اپ ڈیٹ 06 نومبر 2019

ای میل

ٹوئٹر صارفین نے پشتونوں کے حوالے سے تضحیک آمیز ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا—تصویر بشکریہ فیس بک
ٹوئٹر صارفین نے پشتونوں کے حوالے سے تضحیک آمیز ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا—تصویر بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں کہے گئے ’تضحیک آمیز‘ الفاظ کے سبب شدید تنقید کی زد میں آگئے۔

پروگرام میں پشتون قومیت کو طنز کا نشانہ بنانے کے سبب سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نامور شخصیات سمیت متعدد صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

خیال رہے کہ 4 نومبر کو ایکسپریس ٹی وی پر پروگرام ٹو دی پوائنٹ میں اینکر منصور علی خان نے آزادی مارچ کے شرکا کے مطالبات کے بارے میں سوال کیا کہ حکومت مظاہرین کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں کیا دے گی؟

جس پر عثمان ڈار نے کہا کہ ’ان کےساتھ بھی وہی ہوگا جس طرح گلی میں آئے پٹھان 500 والا کمبل 50 روپے میں دے کر چلے جاتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین سے متعلق تضحیک آمیز بیان: رانا ثناء اللہ نے معافی مانگ لی

مذکورہ بیان پر مسلم لیگ (ن) کی رکنِ صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ان کے اس بیان کی مذمت کی اور انہیں ایک قومیت پر طنز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

خاتون سیاسی رہنما کی نشاندہی پر پروگرام کے میزبان کو بھی مداخلت کر کے عثمان ڈار کو باور کروانا پڑا کہ کسی ایک قومیت کا ذکر نہ کریں۔

تاہم پروگرام کے دیگر شرکا کی جانب سے مخالفت جاری رکھنے پر میزبان نے عثمان ڈار کو ان کا بیان واپس لینے کی تجویز دی جس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔

تاہم مذکورہ معاملہ اگلے روز سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گیا جس میں ٹوئٹر صارفین نے پشتونوں کے حوالے سے تضحیک آمیز ریمارکس پر برہمی کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے ٹوئٹر پر #ShameOnUsmanDar (شرم کرو عثمان ڈار) کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا جس میں کچھ لوگ عثمان ڈار کے خلاف تو کچھ لوگ ان کی جانب سے معذرت کرنے پر ان کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے نظر آئے۔

تنازع میں شدت آجانے کے سبب عثمان ڈار نے بذات خود اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام پاکستانی میرے لیے انتہائی قابلِ احترام ہیں، کسی بھی شخص یا قوم کی کسی بھی طریقہ سے دل آزاری کرنا میرے لیے ناقابلِ قبول ہے اور میں اسی پروگرام میں اپنے یہ الفاظ واپس لے چکا ہوں‘۔

مزید پڑھیں: صحافی کے خلاف ’توہین آمیز‘ جملے، شیخ رشید کے لاہور پریس کلب میں بھی داخلے پر پابندی

ٹوئٹ میں انہوں نے اپنے ریمارکس پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’اگر میرے کسی بھی جملے سے میرے پختون بھائیوں کی دل آزاری ہوئی تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں‘۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سانحہ تیز گام کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا تھا جس پر وہاں موجود افراد سخت مشتعل ہوگئے تھے۔

فردوس شمیم نقوی حلیم عادل شیخ کے ہمراہ سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کے لیے میرپور خاص گئے تھے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ’جہالت‘ کے باعث پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’تضحیک آمیز‘ ٹوئٹس پر سیاستدان کو 17 سال قید کی سزا

بعدازاں لوگوں کی جانب سے شدید احتجاج کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی تھی۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی حکومتی رکن کو اپنے غیر ذمہ دارانہ بیان کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو اس سے قبل وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو بھی علما کے حوالے سے تضحیک آمیز بیان پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔