بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مودی کے 'ہندو فرسٹ ایجنڈے' کو تقویت

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2019

ای میل

بی جے پی اب تیسرے بڑے اقدام کی جانب جاسکتی ہے جس کے تحت یکساں شہری ضابطہ بیان کیا جانا ہے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز
بی جے پی اب تیسرے بڑے اقدام کی جانب جاسکتی ہے جس کے تحت یکساں شہری ضابطہ بیان کیا جانا ہے۔ — فائل فوٹو/رائٹرز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں سال انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے 6 ماہ میں ہی اپنے 'ہندو فرسٹ' ایجنڈا کے 2 سب سے بڑے وعدے پورے کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مودی کو مزید مقبولیت ہفتے کے روز بھارتی سپریم کورٹ کی جانب کے 16ویں صدی میں قائم کی گئی مسجد کے مقام کو ہندوؤں کو دیے جانے کے فیصلے کے بعد ملی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا یہ طویل عرصے سے انتخابی منشور بھی رہا تھا۔

اس کے علاوہ نئی دہلی نے رواں سال اگست میں مسلمان اکثریتی علاقے مقبوضہ کشمیر سے اس کی خصوصی حیثیت واپس لی اور اسے ہندو اکثریتی دیگر علاقوں کے ساتھ ملادیا تھا۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد، لاہور گردوارا: مقدمہ ایک جیسا، بھارت کا فیصلہ اور پاکستان کا اور

اب بی جے پی تیسرے بڑے اقدام کی جانب جاسکتی ہے جس کے تحت یکساں شہری ضابطہ بیان کیا جانا ہے اور اس سے عوام کی مذہبی آزادی متاثر ہوسکتی ہے۔

واشنگٹن میں کارنیج انڈومنٹ فور انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو میلان وشناو کا کہنا تھا کہ 'مودی دوبارہ اقتدار میں آنے کے چند ماہ میں ہی اپنے 3 میں سے 2 اہداف کو پورا کر چکے ہیں اور یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ وہ آئندہ سال تک اپنے تینوں اہداف پورے کرلیں گے'۔

بھارت کی معاشی نمو سست روی کا شکار ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'یہ حیرت انگیز ہے کہ حکومت اپنے سوشل ایجنڈے پر پوری اتر رہی ہے جبکہ اپنے معاشی امور پر بات تک نہیں کرتی'۔

پولیس اہلکار عدالتی وقفے کے دوران سپریم کورٹ کے باہر ’ہنومان‘ کے مجسمے کے نزدیک بیٹھے ہوئے ہیں، فوٹو: رائٹرز
پولیس اہلکار عدالتی وقفے کے دوران سپریم کورٹ کے باہر ’ہنومان‘ کے مجسمے کے نزدیک بیٹھے ہوئے ہیں، فوٹو: رائٹرز

کئی مسلمان خوف اور نہ چاہتے ہوئے بھی چیزوں کو قبول کرنے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بی جے پی کو سیکولر ملک کو تبدیل کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

14 فیصد مسلم آبادی رکھنے والے بھارتی ریاست اترپردیش کے علاقے ایودھیا نے اس وقت سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔

1992 میں بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ریلی کنٹرول سے باہر ہوگئی تھی اور ہندو گروہوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کردیا تھا جس کی وجہ سے ملک بھر میں فسادات برپا ہوئے تھے اور اس میں 2 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ہوا، دفتر خارجہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مسجد کو گرائے جانے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تاہم اس کی زمین ہندوؤں کے حوالے کردی جن کا ماننا تھا کہ یہ ان کے بھگوان 'رام' کی جائے پیدائش ہے۔

عدالت نے احکامات دیے کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں دوسری متبادل زمین دی جانی چاہیے۔

درجنوں انٹرویوز میں مسلم برادری کے رہنما، کاروباری افراد اور طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں تاہم اس میں چند کوتاہیاں بھی موجود ہیں۔

مسلم برادری کے رہنما اعظم قادری کا کہنا تھا کہ 'عدالت نے یکطرفہ فیصلہ کیوں سنایا ہے، کیا عدالت کسی دباؤ میں ہے، ہم نہیں جانتے، ہم کسی پر اعتبار نہیں کرسکتے، ہمارے لیے کوئی دروازے نہیں کھلے ہیں'۔

'بے حس رہنا ہی بہتر ہے'

جہاں مودی نے خود کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کو کسی کی ہار اور جیت کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کئی مسلمانوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلے کو قبول کرنے کا اظہار کیا۔

چند افراد کا کہنا تھا کہ 'مسجد کو گرائے جانے کی تحقیقات کو جان بوجھ کر 3 دہائیوں تک کھینچا گیا جبکہ اس واقعے میں ملوث کئی ملزمان بی جے پی کے ہی اہم رہنما ہیں اور ان ہی لوگوں نے کہا تھا کہ مسجد کو گرایا جانا اتفاق تھا اور منصوبہ بندی کے تحت نہیں تھا'۔

ممبئی میں ایک مسلمان کاروباری شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'سپریم کورٹ کے فیصلے سے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میری تذلیل کی گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دیگر افراد کو کوئی پروا نہیں، وہ سن ہوچکے ہیں، مودی کے بھارت میں بے حس ہونا ہی بہتر ہے'۔

چند افراد کا ماننا ہے کہ ہندو قوم پرست اب اپنی توجہ اترپردیش کی دیگر 2 مساجد کی طرف کریں گے اور دعویٰ کریں گے کہ مغل شہنشاہوں نے صدیوں پہلے ہندوؤں کی مندروں کے اوپر ان مساجد کو تعمیر کروایا تھا۔

نئی دہلی کے قریب اشوکا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر نیلنجن سرکار کا کہنا تھا کہ 'اس فیصلے سے ہندوؤں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مساجد کو گرا کر اس پر مندر بنا سکتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کیس کے فیصلے سے ہمیں نئی شروعات کا موقع ملا ہے، نریندر مودی

ایک اور ممکنہ اقدام یکساں شہری ضابطہ ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی نے پہلے ہی اس طرح کے ضابطے پیدا کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں، بی جے پی کی قیادت میں پارلیمنٹ نے جولائی میں مسلمانوں کو صدیوں سے ملنے والا فوری طلاق کا حق واپس لے لیا تھا۔

جہاں انسانی حقوق کے کئی رضاکاروں کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کی یہ روایت غلط ہے، چند مسلمان گروہوں کا کہنا تھا کہ مودی ہندو معاشرے میں تفرقہ پر کالی پٹی باندھ کر ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

مودی حکومت کی سماجی امور ترجیح ہونے پر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور بی جے پی کو اپنی توجہ فوری طور پر گرتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی جانب مبذول کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ بھارت کو دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت تصور کیا جاتا تھا تاہم اب یہ سکڑ کر 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے ایک کالج کے ایک ہندو اور ایک مسلمان طالب علم کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد انہیں امید ہے کہ حکومت کی توجہ معاشی امور کی جانب ہوگی۔

کامرس کے طالب علم راجت مشرا کا کہنا تھا کہ 'اس کیس نے بہت طویل عرصہ لیا ہے اور اب یہ ختم ہوچکا ہے تو شاید معاشی امور اب ترجیح پر ہوں گے'۔

22 سالہ میڈیکل کے طالب علم جنہوں نے نام بتانے سے انکار کیا، کا کہنا تھا کہ 'توجہ اب مذہب کے عنوان سے آگے بڑھنی چاہیے'۔