نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا

ای میل

ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آج مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کو نہیں مدعو کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آج مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کو نہیں مدعو کیا گیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے سے متلعق تجاویز مرتب کرنے کے لیے وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کی سربراہی وزیر قانون فروغ نسیم نے کی جبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبراور سیکریٹری داخلہ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں شرکت سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فروغ نسیم نے بتایا تھا کہ نواز شریف کی روانگی کے حوالے سے تجاویز پر مبنی حکم فوری طور پر مرتب کرنے کے بعد کابینہ کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف نے بیرونِ ملک سفر کیلئے حکومتی شرائط مسترد کردیں

انہوں نے کہا ہمارا حکم کسی کی خواہش پر مبنی نہیں بلکہ درست حقائق اور میرٹ پر فیصلہ کیا جائے گا جس کا اعلان پریس کانفرنس میں کردیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں جو بھی حقائق اور میرٹ موجود ہیں اس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اس سے قبل ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کی صبح 10 بجے مقرر کیا گیا تھا۔

کمیٹی اجلاس میں شرکت کے لیے سیکریٹری صحت پنجاب نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ اور سروسز ہسپتال کے پرنسپل ڈاکٹر محمود ایاز کے ہمراہ پہنچے تھے جس کے بعد انہوں نے ڈان نیوز ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اجلاس نہیں ہورہا۔

مزید پڑھیں: کابینہ نے نواز شریف کا نام 'ای سی ایل'سے نکالنے کی اصولی اجازت دے دی،معاون خصوصی

اس سلسلے میں ڈاکٹر ایاز نے کہا کہ ’انہیں اجلاس کے حوالے سے کوئی ’مس کمیونیکیشن‘ ہوئی ہے تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا بیان نہیں جاری کیا گیا۔

کمیٹی اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کو مدعو نہیں کیا گیا، عطا تارڑ

اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور ذیلی کمیٹی میں شہباز شریف کی نمائندگی کرنے والے عطا تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آج مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کو نہیں مدعو کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’کمیٹی سربراہ نے کہا تھا کہ اگر سیکیورٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر ان کا موقف تبدیل ہوجائے تو وہ کمیٹی کو آگاہ کرسکتے ہیں تاہم ہم نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیا‘۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ان اطلاعات کی تردید کی جس میں کہا جارہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے ذیلی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کو آج ہونے والے اجلاس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی میں تاخیر

دوسری جانب ایک علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے میں تاخیر کے باعث ایئر ایمبولینس کی آمد بھی ملتوی ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق ایئر ایمبولینس کو آج پہنچنا تھا۔

مریم اورنگزیب نے نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی پر شرط عائد کرنے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سابق وزیراعظم کی صحت کے ساتھ ’خطرناک کھیل‘ کھیل رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کو اب تک 2 مرتبہ سٹیرائڈز کی ہائی ڈوز دی جا چکی ہیں اور سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز باربار دینا ان کی صحت کی موجودہ کیفیت میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

‏‎مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو محمد نواز شریف کی صحت کو لاحق سنگین خطرات کا قطعاً احساس نہیں جبکہ ان کی صحت کے حوالے سے قانونی تقاضے پہلے ہی پورے ہوچکے ہیں لہٰذا حکومت خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے فوری علاج میں رکاوٹ نہ بنے۔

بیرونِ ملک روانگی کی اجازت سیکیورٹی بانڈز سے مشروط

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا فیصلہ کرنے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے 3 اجلاس ہوئے تھے۔

جس کے بعد حکومت نے نوازشریف کی بیرونِ ملک روانگی کے لیے شہباز شریف یا مریم نواز کی جانب سے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط رکھی تھی جو ان کے خلاف 2 کرپشن ریفرنسز العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ میں مجموعی جرمانے کے مساوی ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف سروسز ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جاتی امرا منتقل

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک رکن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی، ’اس ضمن میں جہاں کابینہ اراکین کی رائے میں اختلاف نظر آیا وہیں اراکین کی اکثریت نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کے حق میں نظر آئی جبکہ وزیراعظم نے خود بھی اس کی توثیق کی‘۔

تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ’اگر نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی جائے اور وہ واپس نہ آئے تو قومی احتساب بیورو (نیب) اور عدالتیں پوچھ سکتی ہیں کہ حکومت نے کیوں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی‘۔

دوسری جانب سے سابق وزیراعظم نے طبی بنیاد پر باہر جانے کی حکومتی پیشکش اور 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط مسترد کردی تھی۔

نواز شریف کی صحت اور بیرونِ ملک روانگی کا معاملہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کے لیے 8 نومبر کو وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے احکامات کے بعد 6 نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے لیے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے کی سہولیات قائم کی گئی تھیں۔

قبل ازیں انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں نیب لاہور کے دفتر سے تشویش ناک حالت میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی پلیٹلیٹس کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں سابق وزیر اعظم کے علاج کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا اور کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے مرض کی تشخیص کی تھی تاہم نواز شریف کے پلیٹلیٹس کا مسئلہ حل نہ ہوسکا اور ان کی صحت مستقل خطرے سے دوچار رہی۔

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کر دی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی نیب حراست سے رہائی سے متعلق تھی، جس پر 25 اکتوبر کو سماعت ہوئی تھی اور اس کیس میں عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کردی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے علاج کے حوالے سے واضح کیا کہ اگر ضمانت میں توسیع کی ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت سے دوبارہ درخواست کی جاسکتی ہے اور حکومت اس پر فیصلہ کر سکتی تاہم نواز شریف عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔