نواز شریف نے بیرونِ ملک سفر کیلئے حکومتی شرائط مسترد کردیں

اپ ڈیٹ 13 نومبر 2019

ای میل

7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈز کی رقم دونوں کرپشن کیسز میں جرمانے کے مساوی ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈز کی رقم دونوں کرپشن کیسز میں جرمانے کے مساوی ہے —فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد/لاہور: مسلم لیگ (ن) کے بیمار قائد میاں نواز شریف نے حکومتی شرائط پر علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا۔

سابق وزیراعظم نے طبی بنیاد پر باہر جانے کی حکومتی پیشکش اور 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط مسترد کردی جو العزیزیہ اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں عائد کیے گئے جرمانے کے مساوی رقم ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ناموں کے اندراج اور اخراج کا فیصلہ کرنے والی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے 3 اجلاس (صبح 10 سے 1:30، دوپہر 2:30 سے 4:30 اور رات 9:30 سے 11 بجے تک) ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ نے نواز شریف کا نام 'ای سی ایل'سے نکالنے کی اصولی اجازت دے دی،معاون خصوصی

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر قانون نے کہا کہ ہم فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے بلکہ صرف تجاویز دے سکتے ہیں لہٰذا ہم اپنی تجاویز آج (بدھ کو) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کریں گے۔

اس موقع پر جب وزیر قانون سے پوچھا گیا کہ کس قانون کے تحت کمیٹی یا حکومت نواز شریف سے سیکیورٹی بانڈز وصول کرے گی جبکہ وہ ضمانتی مچلکے پہلے ہی عدالت میں جمع کرواچکے ہیں تو فروغ نسیم نے کسی قسم کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

اس بارے میں کمیٹی کے ایک رکن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی اجلاس سے قبل ہی حکومت اپنا ذہن بناچکی تھی کہ اگر نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیں گے تو ان سے سیکیورٹی بانڈز طلب کیے جائیں گے۔

چنانچہ حکومت چاہتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے بھائی شہباز شریف یا ان کی بیٹی مریم نواز ان کی جانب سے ضمانتی بانڈز جمع کروائیں، جو دونوں کرپشن کیسز کے مجموعی جرمانے کے مساوی ہے، جن میں وہ نامزد ہیں۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ پیچیدہ ہے

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ 'ہم نے حکومت کو صاف صاف بتادیا ہے کہ نواز شریف علاج کے لیے لندن جانے کے لیے کسی قسم کے سیکیورٹی بانڈز جمع نہیں کروائیں گے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شہباز شریف نے جاتی عمرہ میں اپنے بڑے بھائی کو حکومتی شرائط سے آگاہ کیا جس پر سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات غیر قانونی ہیں اور عدالت میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد انہیں پورا نہیں کیا جاسکتا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اس معاملے پر حکومتی ’پینترے‘ پر ناگواری کا بھی اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر 8 ہفتوں کی ضمانت دے دی ہے تو اب حکومت اپنی عدالت نہیں لگا سکتی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ای سی ایل سے نام نہ نکالنے کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنے کے حوالے سے شریف خاندان وکلا سے بھی مشورے کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی میں تاخیر

کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی نمائندگی کرنے والے وکیل کا کہنا تھا کہ دونوں عدالتوں میں ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد حکومت کے پاس کسی قسم کا ضمانتی بانڈ جمع کروانے کی قانونی ضرورت نہیں۔

اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اونگزیب کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کوئی نئے بانڈز جمع نہیں کروائیں گے کیوں کہ وہ پہلے ہی عدالتوں میں مچلکے جمع کرواچکے، پارٹی لیڈر شپ اس طرح کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گی۔

علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک رکن نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی، ’اس ضمن میں جہاں کابینہ اراکین کی رائے میں اختلاف نظر آیا وہیں اراکین کی اکثریت نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کے حق میں نظر آئی جبکہ وزیراعظم نے خود بھی اس کی توثیق کی‘۔

اجلاس کے شرکا نے بتایا کہ وزیراعظم نے انہیں آگاہ کیا کہ انہوں نے خود نواز شریف کے پاس کچھ ڈاکٹرز بھیجے تھے جس میں ڈاکٹر فردوس سلطان بھی شامل تھے جنہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی حالت کافی خراب ہے۔

مزید پڑھیں: آج نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا، گورنر پنجاب

تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ’اگر نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی جائے اور وہ واپس نہ آئے تو قومی احتساب بیورو (نیب) اور عدالتیں پوچھ سکتی ہیں کہ حکومت نے کیوں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی‘۔

ادھر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اس کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں‘۔