عمران خان انسانی معاملات پر زہریلی سیاست کررہے ہیں، شہباز شریف

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان این آر او دے سکتے ہیں اور نہ ہی لے سکتے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز
شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان این آر او دے سکتے ہیں اور نہ ہی لے سکتے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکلوانے کے لیے گزشتہ رات ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ عدالت سے رجوع کریں گے تاہم آج لیگل ٹیم لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہے جو میری طرف سے پٹیشن دائر کرچکی ہے۔

لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُمید ہے کہ عدالت میں جلد کیس لگ جائےگا۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان انسانی نوعیت کے مسئلے کو سیاسی بنانے رہے ہیں اس لیے ہم حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ نواز شریف کو صرف ایک بار کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

اس ضمن میں شبہاز شریف نے حکومت سے سوال کیا کہ '6 جولائی 2018 کو نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا تھا، اس وقت نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کی تیمارداری کررہے تھے، جیسے ہی فیصلہ آیا تو 13 جولائی کو وہ مریم نواز کے ساتھ واپس آئے اور انہیں اڈیالہ جیل میں ڈال دیا گیا، تو کیا اس وقت انہوں نے واپسی کے لیے انڈیمنٹی بانڈ دیا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان این آر او دے سکتے ہیں اور نہ ہی لے سکتے ہیں۔

اپوزیشن رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت اب عوام کو یہ دھوکا دینا چاہتی ہے کہ دیکھو نواز شریف سے 7 ارب روپے نکلوالیے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی بیرونِ ملک روانگی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا

انہوں نے کہا کہ 'ہم کسی بھی صورت میں انڈیمنٹی بانڈ کا حکومتی فیصلہ قبول نہیں کرتے'۔

صدر مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ نواز شریف اپنا علاج کرانے کے لیے بیرون ملک علاج جاسکتے ہیں، تو اس عدالتی حکم کے بعد انڈیمنٹی بانڈ کی گنجائش نہیں رہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت شورٹی بانڈ کی آڑ میں تاوان لینا چاہتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نواز شریف کی صحت کا معاملہ سب سے اوپر باقی سب چیزیں نیچے ہیں، ہر چیز کرنے کےلیے تیار ہیں، بانڈ کی شرط لگانے کا جواز کیا ہے۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف نے بیرونِ ملک سفر کیلئے حکومتی شرائط مسترد کردیں

شہباز شریف نے کہا کہ جب وزیراعظم عمران خان کو چوٹ لگی تھی، تب نواز شریف از خود ان سے عیادت کرنے گئے۔

انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ آپ (عمران خان) بیماری اور انسانی معاملات کے اوپر زہریلی سیاست کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اور نیب کے مابین نواز شریف کی صحت کا معاملہ شٹل کاک بنا دیا گیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی طرف سے نواز شریف کے معاملے میں مزید تاخیر کی اور کوئی حادثہ پیش آیا تو قوم برداشت نہیں کرسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیرون ملک جانے کے لیے راضی نہیں تھے، خاندان کے ہر فرد نے سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف نیب سمیت کوئی بھی ادارہ کسی بھی کیس میں آدھے دھیلےکی کرپشن ثابت نہیں کرسکا۔

شہباز شریف نے سوال اٹھایا کیا جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے کسی قسم کا ضمانتی بانڈ مانگا گیا تھا؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے مزید کہا کہ زلفی بخاری کا نام کس نے آدھے گھنٹے میں ای سی ایل سے نکالا اور وہ بیرون ملک چلے گئے، کیا کسی نے ان سے ضمانتی بانڈ مانگا تھا؟