امریکی،ترک صدور 'بہترین ملاقات' کے باوجود تنازعات حل کرنے میں ناکام

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2019

ای میل

امریکی صدر ترک ہم منصب سے پریس کانفرنس کے دوران مصافحہ کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
امریکی صدر ترک ہم منصب سے پریس کانفرنس کے دوران مصافحہ کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر روسی میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری سے دور رہنے پر زور دیتے ہوئے سسٹم کو دوطرفہ تعلقات کے لیے 'بہت سنجیدہ چیلنج' قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق ترک صدر سے وائٹ ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ رجب طیب اردوان کے بڑے مداح ہیں اور ان سے ملاقات نتیجہ خیز رہی۔

تاہم دونوں رہنما واضح طور پر یہ بیان کرنے سے قاصر رہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاملات پر بڑھتے ہوئے اختلافات کو کیسے کم کریں گے۔

ان معاملات میں ترکی کی شام میں امریکا کے اتحادی کردوں کے خلاف کارروائی اور انقرہ کی ماسکو سے 'ایس 400' میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری بھی شامل ہے۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'ترکی جانب سے روس سے ایس 400 سمیت فوجی ساز و سامان کی خریداری نے ہمارے لیے بہت بڑے چیلنجز کو جنم دیا ہے اور ہم اس حوالے سے مستقل بات کر رہے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے اس حوالے سے آج بھی بات کی ہے اور مستقبل میں بھی بات کریں گے جبکہ امید ہے کہ ہم اس صورتحال کو جلد حل کر لیں گے۔'

پریس کانفرنس کے چند منٹ بعد ہی وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں دونوں رہنماؤں کے مقابلے میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ترکی،روس سے دفاعی نظام کے معاہدے سے جولائی تک دستبردار ہوجائے، امریکا

بیان میں کہا گیا کہ 'دیگر معاملات میں پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ ہم ترکی کی طرف سے روسی ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری سے جُڑے مسائل حل کریں اور ہماری دفاعی شراکت داری کو مضبوط کریں۔'

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ انقرہ کی روسی سسٹم کی خریداری نیٹو ڈیفنس سے مطابقت نہیں رکھتی اور لاک ہیڈ مارٹِن کی طرف سے تیار کیے جانے والے 'ایف 35' اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے لیے خطرہ ہے۔

امریکا کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ ترکی، امریکا سے اس کی شراکت داری کی قیمت پر ماسکو سے تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔

ترکی کو، جس نے میزائل سسٹم کی خریداری پر امریکا کی دھمکیوں کو مسترد کردیا تھا، جولائی میں 'ایس 400' کی پہلی کھیپ موصول ہوئی تھی۔

ترکی کو سزا دینے کے لیے امریکا نے اسے 'ایف 35' کی فروخت پر پابندی لگادی تھی اور اسے لڑاکا طیارے بنانے والے کئی ممالک پر مشتمل پروگرام سے نکال دیا تھا۔

فوٹو: اے پی
فوٹو: اے پی

بدھ کے روز دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ حل کرنے کے لیے کام کریں گے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ایسا کیسے ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ہم اپنے سیکریٹری خارجہ، وزیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے مشیر سے کہہ چکے ہیں وہ ایس 400 معاملے کے حل کے لیے فوری کام کریں۔'

دوسری جانب رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ دونوں ممالک اس تنازع پر صرف بات چیت کے ذریعے قابو پاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی کا روس کے ساتھ ’ایس ۔ 400‘میزائل نظام خریدنے کا معاہدہ

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کی نئی جہت کا آغاز کریں گے اور اسے پہلے سے مضبوط بنائیں گے۔

قبل ازیں دونوں رہنماؤں میں اختلافات کے باوجود امریکی صدر نے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ترک ہم منصب کا شاندار استقبال کیا تھا۔