کرم ایجنسی: 5 سالہ بچی کے ریپ، قتل کے الزام میں مزید 9 افراد گرفتار

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2019

ای میل

حالیہ گرفتاریوں کے بعد بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث افراد کی تعداد مجموعی طور پر 11 ہوگئی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
حالیہ گرفتاریوں کے بعد بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث افراد کی تعداد مجموعی طور پر 11 ہوگئی ہے — فائل فوٹو: رائٹرز

کرم ایجنسی کے علاقے پیوار میں پولیس نے 5 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل سے متعلق کیس میں مزید 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) رحیم شاہ نے بتایا کہ پولیس نے ڈی این اے کے نمونے لاہور میں پنجاب فرانزک سائنس بھجوادیے ہیں اور کہا کہ جلد حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

حالیہ گرفتاریوں کے بعد بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث افراد کی تعداد مجموعی طور پر 11 ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ پولیس نے رواں ہفتے کے آغاز میں 2 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: چونیاں میں ریپ کے بعد بچوں کا قتل، ملزم 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

علاوہ ازیں بریگیڈ 73 کے کمانڈنگ بریگیڈئیر نجف عباس اور کمانڈنگ افسر کرنل محمد جاوید الیاس نے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ بچی کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور متاثرہ بچی کے سرکاری اسکول کے عملے سے بھی ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ بچی کے قتل میں ملوث عناصر سزا سے نہیں بچ سکتے اور مزید کہا کہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز میں پیوار گاؤں کے تالاب میں 5 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، بچی کے دادا کے مطابق جب وہ اسکول سے گھر واپس نہیں آئی تو گھر والوں نے اس کی تلاش شروع کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: چونیاں میں بچوں کا ریپ،قتل: عثمان بزدار کا ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ

بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال پاراچنار لے جایا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بچی کو قتل سے قبل ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بعدازاں ڈی پی او نے کہا تھا کہ اسکول کے 2 چوکیداروں کو تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

مقامی بار ایسوسی ایشن کے طلبا اور اراکین نے 2 روز قبل واقعے کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے مقامی حکام سے کیس کی تحقیقات کرنے اور مجرمان کی بروقت گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔