لندن: نوازشریف کے بون میرو ٹیسٹ پر اہلخانہ کو تشویش

اپ ڈیٹ 28 نومبر 2019

ای میل

حسین نواز نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہر ایک ان کی صحت کے لیے دعا کرے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
حسین نواز نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہر ایک ان کی صحت کے لیے دعا کرے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لندن: سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے امراض قلب سمیت دیگر طبی ٹیسٹ کا سلسلہ جاری ہے تاہم ان کے اہل خانہ نے بون میرو ٹیسٹ سے متعلق تشویش کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے بتایا کہ ’ابھی سب سے اہم طبی ٹیسٹ بون میرو ہے‘۔

مزید پڑھیں: خرابی صحت کے باعث نواز شریف کو کہیں اور منتقل کرنا ممکن نہیں

انہوں نے مزید کہا کہ ’میری درخواست ہے کہ ہر ایک ان کی صحت کے لیے دعا کرے‘۔

بون میرو کی جانچ سے ظاہر ہوسکتا ہے کہ آیا کسی فرد کی ہڈیوں کا میرو صحت مند ہے اور مقدار پوری ہونے پر خون کے خلیات بنا رہا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر یہ طریقہ کار خون اور میرو کی بیماریوں سمیت کینسر سے متعلق مرض کی تشخیص کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نواز شریف کی پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے بون میرو کے نمونے کی جانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

حسین نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف کا علاج اور تشخیص جاری ہے اور برطانیہ میں ڈاکٹروں کے پاس تشخیص اور ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ایک طریقہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پہلے سے بہتر قرار دے دی

ان کا کہنا تھا کہ ’ذاتی طور پر مجھے لگتا ہے کہ انہیں امریکا کے ایک معیاری ہپستال لے جانا پڑے گا تاکہ وہ ان کی دیگر بیماریوں کا علاج ہوسکے'۔

حسین نواز نے کہا کہ ’میں نے میاں نواز شریف سے متعدد مرتبہ اس حوالے سے بات کی لیکن ان کے لیے ابھی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے کیونکہ لندن میں اب بھی ان کے ٹیسٹ جاری ہیں‘۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کو جلد انجیوگرام کے لیے ہسپتال میں داخل کرانا ہوگا جس کے بعد امراض دل کا علاج ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ انجیوگرام کے بعد امکان ہے کہ ڈاکٹر دل اور دیگر امراض کے علاج کے لیے کوئی طریقہ کار تجویز کریں۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر عدنان خان نے کہا تھا کہ کسی بھی طریقہ کار سے پہلے نواز شریف کے مدافعتی نظام کی بہتری لانی ہوگی۔

مزید پڑھیں: کیا نواز شریف پنجاب کے بھٹو ثابت ہوں گے؟

خیال رہے کہ حکومت اور عدالتوں نے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

سابق وزیراعظم اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ 19 نومبر کو لندن پہنچے تھے۔

شہباز شریف کی پاکستانی ہائی کمیشن میں آمد

دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں اپنے خلاف جاری قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات سے متعلق درخواست جمع کرائی کہ عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ’میں لندن میں اپنے بھائی نواز شریف کے ہمراہ موجود ہوں اور وہ یہاں زیر علاج ہیں، میں بھی یہاں پر اپنا طبی معائنہ کرارہا ہوں، اس کی بنیاد پر میں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ میری غیر موجودگی کا عذر قبول کریں‘۔

مزید پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن پہنچ گئے

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے وکیل محمد نواز چودھری، جنہیں پاور آف اٹارنی دیا گیا ہے، وہ عدالت میں ان کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے شہباز شریف کے خلاف غیر منقولہ اثاثہ جات کا کیس بنایا ہے۔

آشیانہ اسکیم کے علاوہ رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔