روہنگیا نسل کشی: میانمار کی آنگ سانگ سوچی عالمی عدالت میں پیش

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2019

ای میل

نوبیل انعام یافتہ سوچی عالمی عدالت انصاف میں پیش ہوئیں —فوٹو:اے پی
نوبیل انعام یافتہ سوچی عالمی عدالت انصاف میں پیش ہوئیں —فوٹو:اے پی

میانمار کی سول رہنما آنگ سانگ سوچی ملک میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف گیمبیا کی جانب سے دائر مقدمے میں عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے سامنے پیش ہوئیں جہاں ان سے بنیادی سوالات پوچھے گئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق نوبیل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی، نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں روہنگیا مسلمانوں کی منظم نسل کشی کے حوالے سے دائر مقدمے میں اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے پیش ہوئیں۔

گیمبیا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کی اجتماعی عصمت دری، کئی خاندانوں کو ان کے گھروں سمیت جلا دیا گیا اور درجنوں بچوں کو چاقوں کے وار سے قتل کیا گیا جو نسل کشی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی عدالت نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کی تحقیقات کی اجازت دیدی

گیمبیا کے وزیر انصاف ابوبکر تمبادو نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ‘میانمار سے یہ کہا جائے کہ وہ یہ قتل عام روک دے، ظلم و بربریت کے ان واقعات نے صدمہ پہنچایا اور مسلسل ایسا ہوتا رہا، اپنے لوگوں کی نسل کشی کو روکا جائے’۔

آنگ سانگ سوچی متوقع طور پر کل تمام سوالات کا جواب دیں گی اور نسل کشی کے دعوؤں کو مسترد کر دیں گی جو اگست 2017 میں شروع ہوا تھا۔

گیمبیا کے وکیل اینڈریو لووینسٹین نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی رپورٹ سے شواہد پیش کیے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق من گئی نامی گاؤں میں 750 افراد کو مارا گیا تھا جن میں 100 سے زائد بچے بھی شامل تھے جن کی عمریں 6 سال سے بھی کم تھیں۔

انہوں نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘زمین پر گاؤں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں’۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ایک متاثرہ خاتون کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘جیسے ہی ہم گھر میں داخل ہوئے تو فوجیوں نے دروازہ بند کردیا، ایک فوجی نے میرا ریپ کیا، اس نے میری گردن اور پیٹ پر پیچھے سے چھرا گھونپا لیکن میری کوشش تھی کہ اپنے چھوٹے بچے کا تحفظ کروں جو اس وقت صرف 28 روز کا تھا لیکن انہوں نے بچے کو فرش پر دے مارا جس کے ساتھ ہی بچے نے دم توڑ دیا’۔

مزید پڑھیں:روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

گیمبیا نے پہلی سماعت کے اختتام پر عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے کیونکہ نام نہاد عبوری اقدامات میانمار کی فوج کو اس مقدمے کے ختم ہونے تک اپنے جرائم جاری رکھنے کے مترادف ہوں گے۔

افریقی ملک کے ایک اور وکیل فلپ سینڈز نے کہا کہ ‘صرف اسی صورت میں ہمیں گیمبیا کو حق ملنے اور روہنگیا کو مکمل تحفظ کا راستہ مل سکتا ہے’۔

یاد رہے کہ 11 نومبر کو گیمبیا نے عالمی عدالت انصاف میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف نسل کشی پر میانمار کے خلاف تحقیقات کی درخواست دائر کی تھی۔

میانمار کی ریاست رخائن میں اگست 2017 میں فوج اور مقامی انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر بدترین ظلم اور قتل و غارت کی گئی تھی، اقوام متحدہ کے مطابق اس بدترین صورتحال کے بعد 7 لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔

بعد ازاں اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور میانمار حکومت میں شراکت دار فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

میانمار کی حکومت کی جانب سے تحقیقات کے بعد کئی فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل اور دیگر افراد کو انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہونے پر سزائیں بھی تجویز کی گئی تھیں۔