خیبرپختونخوا میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا، رپورٹ

11 دسمبر 2019

ای میل

صائمہ منیر نے بتایا کہ خواتین پرتشدد کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ ہوا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
صائمہ منیر نے بتایا کہ خواتین پرتشدد کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ ہوا—فائل فوٹو: ڈان نیوز

پشاور: خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبے میں گزشتہ 11 برس کے دوران خواتین اور لڑکیوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کی افسر صائمہ منیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 11 برس کے دوران مبینہ طور پر 4 ہزار 504 خواتین اور لڑکیاں کو قتل کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: 82 فیصد خواتین بسوں میں ہراساں کیے جانے سے پریشان

انہوں نے بتایا کہ خواتین پرتشدد کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعات میں قتل کی واردات سرفہرست رہی جبکہ خودکشی اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بھی شامل ہیں جو اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔

خواتین پر تشدد کے بارے میں عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں '2009 سے 2019 کے عرصے کو (ملزمان کےخلاف کارروائی کی مد میں) ریاستی استثنیٰ قرار دیا'۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ 2019 میں کم از کم 778 خواتین، 2018 میں 646، 2017 میں 777، 2016 میں 663، 2015 میں 425، 2014 میں 736، 2013 میں 597، 2012 میں 674، 2011 میں 694، 2010 میں 650، 2009 میں 615 خواتین اور لڑکیوں کو قتل کیا گیا۔

عورت فاؤنڈیشن کا کہنا تھا کہ 2019 میں 778 خواتین ہلاک ہوچکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والی خواتین اور لڑکیاں تھیں اور وہ صرف اپنی صنف کی وجہ سے ماری گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کو ہراساں کرنا، ماہرہ نے بتائے 3 اہم سچ

صائمہ منیر نے کہا کہ اعداد و شمار تشویشناک رہے لیکن زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل سکا کیونکہ اخبارات میں ایسی اطلاعات ملتی ہیں جس ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر مقدمات میں مبینہ قاتل متاثرین کے قریبی رشتے دار تھے۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق مبینہ قاتلوں کو بیشتر مقدمات میں ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ضمانت پر رہا کیا گیا۔

صائمہ منیر کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک رجحان ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے مبینہ قاتلوں کو ضمانت مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق قانون سازی پر سنجیدگی نہیں دکھائی لیکن بہت سے دوسرے بلوں کو تیزی سے منظور کرلیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نئے قوانین نافذ نہیں کرتی تو وہ موجودہ قوانین پر عمل درآمد کرے۔

صائمہ منیر نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو قتل کیا گیا اور کسی کو سزا نہیں دی گئی۔

مزیدپڑھیں: پاکستان میں عورت کی پریشانی کی وجہ صرف مرد نہیں بلکہ ...

انہوں نے کہا کہ خواتین حقوق کی تنظیمیں اپنی آواز بلند کررہی ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔

عورت فاؤنڈیشن کی عہدیدار نے کہا کہ بعض معاملات میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین اور لڑکیوں کو انصاف کی ضرورت ہے اور متعلقہ سرکاری اداروں کو معلوم کرنا چاہیے کہ اس طرح کے گھناؤنے جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں۔


یہ خبر 11 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی