اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوران حراست قیدیوں کی اموات کی رپورٹ طلب کرلی

15 دسمبر 2019

ای میل

وزارت انسانی حقوق کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت18 جنوری تک ملتوی کردی— فائل فوٹو: رائٹرز
وزارت انسانی حقوق کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت18 جنوری تک ملتوی کردی— فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت انسانی حقوق سے دوران حراست قیدیوں کی اموات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے 2 قیدیوں کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے وزارت انسانی حقوق کو قیدیوں کی حالت سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا،بالخصوص وہ جو جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہیں یا جنہیں مناسب طبی علاج نہ دیا گیا ہو۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ بااثر قیدیوں کو بہتر علاج فراہم کیا جاتا ہے جبکہ عام قیدیوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جب کوئی قیدی عدالت سے رجوع کرتا ہے اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایت کرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہی۔

مزید پڑھیں: حکومت ذہنی معذور قیدی کی سزائے موت روکے، جے پی پی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وزارت انسانی حقوق کو شدید بیمار قیدیوں کو علاج فراہم کرنے کی پالیسی تیار کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جیل حکام سے استفسار کیا کہ کیا کسی قیدی کی موت کے بعد کسی کیس میں تحقیقات ہوئیں تھیں۔

جس پر جیل حکام نے بتایا کہ متعلقہ ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج ایسے واقعے پر انکوائری جوڈیشل مجسٹریٹ کو دے دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں اڈیالہ جیل میں تعینات ڈاکٹر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 5 کیسز نمٹائے تھے اور انہیں جیل کے قوانین کے مطابق علاج فراہم کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جیل حکام کو ہدایت کی اگر کوئی قیدی اس سلسلے میں درخواست دائر کرتا ہے تو اسے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ارسال کیا جانا چاہیے۔

ساتھ ہی عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو کمیشن کو قیدیوں کی شہری آزادی کی صورتحال کا جائزہ لینے سے متعلق آگاہ کرنے کا حکم بھی دیا۔

وزارت انسانی حقوق نے وفاقی وزیر انسانی حقوق کی سربراہی میں تشکیل کردہ کمیشن کا نوٹی فکیشن 30 نومبر کو جمع کروایا تھا۔

مذکورہ کمیشن میں وزارت انسانی حقوق، صحت و داخلہ کے سیکریٹریز، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سابق چیئرپرسن زوہا یوسف، صحافی غازی صلاح الدین، ایڈووکیٹ ضیا اعوان، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ اور تمام چیف سیکریٹریز بھی اس کمیشن کا حصہ ہوں گے۔

دوران سماعت وزارت انسانی حقوق کے نمائندے نےعدالت کو بتایا کہ زوہا یوسف اور طارق نے ذاتی وجوہات کی بناپر کمیشن کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔

ریفرنس کی شرائط کے مطابق مذکورہ کمیشن ’ پاکستان کی جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، طبی معاونت کی کمی اور ان قیدیوں کی عدالت تک رسائی میں رکاوٹوں سے متعلق تحقیقات کرنا ہے جن کے پاس اس سلسلے میں کوئی معاونت یا ذریعہ موجود نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 514 قیدیوں کا جرمانہ ادا کر کے انہیں رہا کردیا

علاوہ ازیں کمیشن ’ ایگزیکتو حکامات اور متعلقہ حکام کی جانب سے فرائض پورا کرنے میں ناکامی کی تحقیقات کرے گاا اور بیماریوں ارو امراض میں مبتلا قیدیوں سے متعلق پرزن رولز اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 کا نفاذ کرے گا۔

یہ کمیشن ’ قیدیوں سے متعلق قوانین اور آئین کی تحت ریاست پاکستان کے عزائم کو پورا کرنے کے مقاصد کے دیگر متعللقہ قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کا جائزہ لے گا اور جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے حل پیش کرے گا ساتھ ہی کسی قانون، رولز، مناسب حکمرانی اور منیجمنٹ سسٹم سے متعلق ترامیم پیش کرے گا‘۔

نوٹی فکیشن کے مطابق کمیشن ’ کسی فرد یا ادارہ جاتی احتساب کو یقینی بنانے کے ‘ لیے تجاویز دے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت انسانی حقوق کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت18 جنوری تک ملتوی کردی۔


یہ خبر 15 دسمبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی