بولی وڈ کے ایک معروف ڈائریکٹر نے سلمان خان، عامر خان اور شاہ رخ خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متنازع شہریت قانون پر اپنی خاموشی کو توڑیں، جس کے نتیجے میں بھارت بھر میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

متنازع شہریت قانون کو مسلمانوں کے خلاف قرار دیا جارہا ہے اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم از کم 21 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی پالیسیوں کے مخالف ڈائریکٹر انوبھو سنہا نے خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ تینوں اداکار اور ان کے مداح مختلف ہے، ان کا ایک لفظ لاکھوں کروڑوں افراد پر اثرانداز ہوسکتا ہے'۔

شاہ رخ خان کی 2011 کی فلم را۔ون کی ہدایات دینے والے انوبھو سنہا نے مزید کہا 'میں سمجھ سکتا ہوں کہ شاید وہ کیوں بات نہیں کرپارہے، میں ان پر غصہ نہیں'۔

انہوں نے کہا کہ وہ قانون یا تشدد کے بارے میں کیا کہتے ہیں وہ اہم نہیں، انہیں بس اس بحث کا حصہ بننا چاہیے 'میں یہ نہیں کہتا کہ وہ مجھ سے یا دیگر سے اتفاق کریں، ان کی رائے ہمارے خلاف بھی ہوسکتی ہے'۔

رواں ماہ متنازع شہریت بل کو قانون کی حیثیت دی گئی تھی جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے 6 مذاہب کے غیرمسلم تارکین وطن ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ، جینز اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔

اس بل کے تحت 1955 کے شہریت ایکٹ میں ترمیم کر کے منتخب کیٹیگریز کے غیرقانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت کا اہل قرار دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوو¿ں، سکھوں، بدھ متوں، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائےگی۔

بل کے قانون بن جانے کے بعد اس کے خلاف نئی دہلی سمیت بھارت کے دیگر کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

مظاہروں کے دوران جلاؤ گھیراؤ کی وجہ سے جامعہ ملیہ سمیت دیگر اداروں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

بل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے بعد ہی اداکار سوشانت سنگھ کو ان کے ٹی وی شو ’ساودھان انڈیا‘ سے باہر کیا گیا تھا اور دیگر اداکاروں و فلم سازوں کو بھی متنازع شہریت قانون پر بات کرنے کے خلاف بھی ہندو انتہا پسندوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے متنازع شہریت قانون کو ’بھارت کی جمہوریت کی موت‘ قرار دیا اور ٹوئٹ کی کہ بھارت میں معصوم لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنے پر مارا جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قانون سازی کرنی چاہیے مگر دوسروں کی رائے کا بھی احترام کرنا چاہیے۔

ادکارہ دیا مرزا نے ’متنازع شہریت قانون‘ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ ’ان کی والدہ ہندو تھیں، ان کے جسمانی والد مسیحی تھے جب کہ ان کی پرورش کرنے والے والد مسلمان تھے اور ان کے تمام دستاویزات میں مذہب کا خانہ اب بھی خالی ہے، کیا کوئی مذہب طے کرے گا کہ میں بھارتی ہوں یا نہیں؟

اداکارہ نے مزید لکھا کہ مذہب انہیں بھارتی یا غیر بھارتی قرار نہیں دے سکتا اور انہیں امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا نہیں ہوگا۔

اداکار و فلم ساز فرحان اختر نے اپنی ٹوئٹ میں ’متنازع شہریت ترمیمی قانون‘ اور رواں برس پاس کیے گئے ایک اور متنازع قانون ’نیشنل رجسٹر آف سٹیزن‘ کا متن ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ پڑھیں اور سوچیں کہ بھارت بھر میں ہونے والے مطاہرے کیوں ضروری ہیں۔

دبنگ اداکارہ سوناکشی سنہا نے آئین ہند کا متن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم کیا تھے، ہم کیا ہیں اور ہم کیا ہوتے جا رہے ہیں‘۔

اداکارہ کی جانب سے شیئر کیے گئے متن کے مطابق ’بھارت میں رہنے والے ہم لوگ ملک کے آئین و قانون کو سیکولرِ خود مختار اور جمہوری تسلیم کرتے ہیں۔

اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی متنازع شہریت کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے اس قانون کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں مداحوں کو شرکت کرنے کے لیے مدعو کیا۔

اداکارہ نے متنازع شہریت قانون بل کے خلاف ہونے والے مظاہرے کی ایک پوسٹ شیئر کی ’جس میں لکھا تھا کہ بھارت کی دوبارہ تقسیم کے لیے اکٹھے اٹھ کھڑے ہوں‘۔

فلم ساز انوراگ کشیپ نے متنازع شہریت قانون بل پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے ’مودی سرکار کو فاشسٹ قرار دیا‘ اور لکھا کہ اب بھارتی مزید صبر نہیں کر سکتے، فاشسٹ حکومت کے اقدام انہیں غصہ دلا رہے ہیں۔

اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے جامعہ ملیہ نئی دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کی حمایت کی اور طلبہ پر پولیس تشدد کو غیر انسانی سلوک قرار دیا۔

تاہم اداکارہ نے واضح طور پر متنازع شہریت قانون کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں