پاکستان کا اصلاحاتی پروگرام درست سمت میں گامزن ہے، آئی ایم ایف

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2019

ای میل

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کاروبار کا ماحول بہتر اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کاروبار کا ماحول بہتر اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے—فائل فوٹو: رائٹرز

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام کو درست سمت میں گامزن ہونے کی نوید سنادی۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق پہلا جائزہ لینے کے بعد آئی ایم ایف نے تسلیم کیا کہ اصلاحاتی پروگرام کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پیکج کی دوسری قسط: پاکستان کیلئے 45 کروڑ 24 لاکھ ڈالر منظور

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں کاروبار کا ماحول بہتر اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ افراط زر میں کمی آنا شروع ہوگئی اور اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کا کردار مناسب ہے۔

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ فیصلہ کن پالیسی پر عمل درآمد شروع ہونے سے پاکستان کی معیشت کے مسائل حل اور مالی استحکام کا آغاز ہوگیا۔

آئی ایم ایف نے اپنے جائزے میں مزید کہا کہ حکومت تسلیم کرتی ہے کہ معاشی سرگرمی اور نمو کو بحال کرنے کے لیے خاص طور پر سرکاری اداروں (ایس ای ای) کے سیکٹر میں ادارہ جاتی اصلاحات کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر پر مشتمل ایس ڈی آر جاری کردی جس سے مجموعی طور پر ایس ڈی آر کو ایک ارب 45 کروڑ ڈالر کی ترسیل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ ہماری مشاورت سے تیار کرکے پارلیمنٹ سے منظور کروایا گیا، آئی ایم ایف

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ستمبر کے آخر میں کارکردگی کے معیار (پی سی) میں وسیع مارجن ریکارڈ کیے گئے۔

افراط زر کے آؤٹ لک کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مالی سال 20 کے لیے افراط زر کا تخمینہ 13 فیصد سے 11.8 فیصد تک کم ہونے کی پشگوئی کی۔

اس ضمن میں رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انتظامی اور توانائی کے شعبوں میں نرخ کی مد میں ایڈجسٹمنٹ کی توقع ہے جس کے اثرات سے گھریلو طلب متاثر ہوں گی اور افراط زر کی شرح 5-7 فیصد متوقع ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بنیادی افراط زر کے ساتھ ہی افراط زر مستحکم ہونا شروع ہوگئی اور اسٹیٹ بینک کو شرح میں اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا کہ چونکہ جولائی-نومبر کے دوران افراط زر 10.8 فیصد تھی اور اقدامات کے ساتھ ہم درمیانی مدت کے دوران افراط زر کو 5 فیصد تک کم کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

مزیدپڑھیں: 'معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فی صد بڑھانا وقت کی ضرورت ہے'

رپورٹ کے مطابق بیرونی شعبے کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہےاور مجموعی طور پر مالی سال 2019 کی اسی مدت کے مقابلے میں مالی سال 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ دوتہائی (74 فیصد) سکڑ گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مارکیٹ میں طے شدہ شرح تبادلہ کی شرح میں منتقلی نے روپیے کی قدر میں تیزی توازن پیدا کیا اس طرح گزشتہ 5 برس کے ’ایکسچینج ریٹ اور وایلیواشن‘ کو کامیابی کے ساتھ بہتر کیا۔

واضح رہے کہ 20 دسمبر کو آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت قرض کی دوسری قسط 45 کروڑ 24 لاکھ ڈالر کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا اصلاحاتی پروگرام 'راہ راست پر ہے اور اس کا ثمر آنا شروع ہوا ہے'۔

آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ 'مارکیٹ سے طے شدہ تبادلے کی شرح میں منتقلی منظم طور پر رہی ہے (اور) افراط زر مستحکم ہونا شروع ہوا ہے جس سے آبادی کے سب سے زیادہ کمزور گروہوں پر اثر کم کیا جاسکتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف پیکج: پاکستان کو 6 ارب ڈالر میں سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے

آئی ایم ایف کے پہلے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور ایکٹنگ چیئر ڈیوڈ لپٹن کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ'مضبوط ملکیت اور مستحکم اصلاحات کا نفاذ معاشی استحکام اور مضبوط اور متوازن نمو کی حمایت کے لیے ضروری ہے'۔