ڈیجیٹل قانون کی خلاف ورزی: بنگلہ دیش میں صوفی لوک گلوکار گرفتار

اپ ڈیٹ 12 جنوری 2020

ای میل

جرم ثابت ہونے پر لوک گلوکار کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے
—فوٹو: اے ایف پی
جرم ثابت ہونے پر لوک گلوکار کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے —فوٹو: اے ایف پی

بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ کے متنازع قانون کی مبینہ خلاف ورزی پر صوفی لوک گلوکار کو گرفتار کرلیا گیا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے ایک صوفی لوک گلوکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں انٹرنیٹ سے متعلق متنازع قانون کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون تقریر کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مزیدپڑھیں: بنگلہ دیش کی عدالت کا سابق چیف جسٹس کو گرفتار کرنے کا حکم

پولیس کے چیف سید الرحمٰن نے بتایا کہ 40 سالہ شریعت سرکار کو ہفتے کو وسطی قصبے مرزا پور سے حراست میں لیا گیا۔

سید الرحمٰن نے کہا کہ ایک عالم دین نے دسمبر میں متنازع تبصرہ کرنے پر شریعت سرکار کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور انہیں 'مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا'۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ہزار سے زائد مسلم کارکنوں اور علما، گلوکار کی گرفتاری کے مطالبے پر ریلی نکال رہے ہیں۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ اگر مقدمے کی سماعت میں شریعت سرکار قصوروار پائے گئے تو انہیں 10سال قید ہوسکتی ہے۔

صحافیوں اور بنیادی حق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی ایکٹ 2018 میں منظور کیا گیا تھا اور ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو ایک سنگین خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو ضمانت مل گئی

اس ایکٹ کے تحت کسی کو بھی قوم کے خلاف 'پروپیگنڈا' کرنے پر جیل اور ڈیجیٹل مواد جو 'مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے' یا 'بدامنی پیدا کرتا ہے' اس پر 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

بنیادی حقوق کے ایک گروپ اودھیکر کے مطابق قانون کے تحت گزشتہ برس کم از کم 29 گرفتاریوں کی اطلاعات ملیں۔

شریعت سرکار دیہی بنگلہ دیش میں لاکھوں صوفی پیروکاروں میں بہت مشہور ہیں۔

میوزک کے ماہر زکریا نے بتایا کہ لوک گلوکار باقاعدگی سے اسلامی داستانوں کی ترجمانی اس انداز میں کرتے ہیں کہ ان میں سرکاری ورژن کی عکاسی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ لوک گلوکاروں کو اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہیے، کارکردگی کے دوران جو کچھ کہا جاتا ہے اس کی لغوی ترجمانی نہیں ہونی چاہیے۔