شاہ محمود کی سعودی ہم منصب سے ملاقات،'فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ضروری ہے'

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2020

ای میل

وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی — فوٹو: نوید صدیقی
وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی — فوٹو: نوید صدیقی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ خطے کے امن و امان اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ پرامن انداز میں طے پا سکیں۔

شاہ محمود قریشی سعودی عرب آمد کے بعد دارالحکومت ریاض میں سعودی دفتر خارجہ پہنچے جہاں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی باعث تشویش ہے، اس کشیدہ صورتحال کو اعتدال پر لانے اور خطے کے امن و استحکام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاملات کو سفارتی ذرائع بروئے کار لا کر پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور گفت و شنید کا راستہ اپنانے پر آمادہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تشویش ہے کہ اگر اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بروقت اقدام نہ اٹھائے گئے تو یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے خطے کے دیگر وزرائے خارجہ سے ہونے والے روابط سے بھی سعودی ہم منصب کو آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، 'پاکستان صرف امن میں حصہ دار بن سکتا ہے'

انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ایران اور امریکا دونوں اپنے اپنے بیانات میں واضح کر چکے ہیں کہ وہ مزید کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے، ان حالات میں ضروری ہے کہ فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کیا جائے تاکہ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ پرامن انداز میں طے پا سکیں۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں اضافے سے افغان امن عمل جو اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ملاقات میں سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی بحرانی کیفیت پر قابو پانے اور خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی امن کاوشوں کو سراہا اور شاہ محمود قریشی کے دورے اور کوششوں کا خیر مقدم کیا۔

وزیر خارجہ کی سعودی عرب آمد

قبل ازایں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے سلسلے میں اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں ایران سے سعودی عرب پہنچے تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا— فوٹو: نوید صدیقی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا— فوٹو: نوید صدیقی

پیر کو شاہ محمود قریشی ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو سعودی عرب کے ڈپٹی وزیر برائے پروٹوکول اعظم الیقین، سعودی میں پاکستان کے سفیر راجا علی اعجاز اور دیگر سینئر حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود دورہ سعودی عرب کی تکمیل پر عُمان روانہ ہوگئے۔

وہ عمان میں سابق فرمانروا سلطان قابوس بن سعید کے انتقال پر شاہی خاندان سے تعزیت کریں گے۔

اس سے قبل وزیر خارجہ اپن دورہ مکمل کر کے ایران سے روانہ ہوئے تو مہر آباد ایئرپورٹ پر ایران کی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے مغربی ایشیا محمد موسوی، تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور سید فواد شیر اور دیگر افسران نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا۔

وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے دورے کے پہلے حصے میں 12 اور 13 جنوری کو ایران کا دورہ کیا جس کا مقصد کشیدگی اور تناؤ میں کمی لانا اور سفارتی ذرائع سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران-امریکا کشیدگی: وزیر خارجہ کی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات

ایران کے دورے کے دوران وزیر خارجہ نے ایرانی صدر حسن رحانی، اپنے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور مشہد کے گورنر جنرل خراسان رزاوی سے ملاقات کی۔

شاہ محمود قریشی نے ملاقات کے دوران پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔

وزیرخارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان خطے میں کسی جنگ یا تنازع کا حصہ بنے گا۔

وزیرخارجہ نے زور دیا کہ صورتحال کی پیچیدگی کے باوجود پاکستان امن کے لیے کام جاری رکھے گا کیونکہ یہ خطے اور دنیا کے اجتماعی مفاد میں ہے اور اس تناظر میں پاکستان سب فریقین پر زور دیتا ہے کہ معاملے میں تعمیری انداز اپنائیں تاکہ امن برقرار رہے جبکہ سفارتی ذرائع سے حل تلاش کیا جائے۔

صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے دورے کو سراہا اور امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سہولت کاری سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو تسلیم کیا۔

وزیرخارجہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اور اس تنازع کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کے لیے ایران کی بھرپور و مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: عراق میں امریکی فضائی اڈے پر ایک اور راکٹ حملے پر مائیک پومپیو برہم

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 8 جنوری کو امریکا اور ایران کے مابین پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کے پیش نظر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب، ایران اور امریکا کے دوروں کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے۔

علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت الفاظ میں امریکا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام یا جارحیت کی گئی تو مزید تکلیف دہ اور بھرپور ردعمل دیے جائیں گے۔