طیارہ حملے کیخلاف احتجاج، ایران نے مظاہرین پر فائرنگ کی رپورٹس مسترد کردیں

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

رپورٹس کے مطابق ایران کی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے— فوٹو: اے پی
رپورٹس کے مطابق ایران کی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی ہوئے— فوٹو: اے پی

ایران نے سوشل میڈیا پر زیر گردش رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے طیارہ حادثے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ نہیں کی۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کررہی ہیں جن کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایران کی جانب سے یوکرین طیارے کو مار گرائے جانے کے واقعے کو تسلیم کرنے کے بعد ملک میں ہونے والے احتجاج میں شامل مظاہرین سے مقامی فورسز سختی سے نمٹ رہی ہیں اور انہیں منتشر کرنے کے لیے فائرنگ بھی کی گئی۔

یاد رہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی 1979 کے بعد تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی پر خطے پر جنگ کا خظرہ منڈلانے لگا تھا۔

مزید پڑھیں: عراق میں امریکی فضائی اڈے پر ایک اور راکٹ حملے پر مائیک پومپیو برہم

3 جنوری 2020 کو امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران نے بدلہ لینے کے لیے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر 20میزائل فائر کیے تھے تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

تاہم اس دوران ایران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ پرواز کے چند منٹ بعد ہی ایران میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس پر عالمی برادری نے ایران پر طیارہ گرانے کا الزام عائد کیا تھا۔

ایران کی جانب سے ابتدائی طور پر ان الزامات کی تردید کی گئی تھی لیکن ناقابل تردید ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد ایران نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

ایران کی جانب سے طیارہ گرانے کی غلطی تسلیم کرنے کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں مظاہرین نے حادثے کے ذمے داران کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے بھی استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہفتے کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر میں مظاہرے کیے گئے جس میں مظاہرین نے طیارہ حادثے میں ہلاک افراد کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

اتوار کو سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ایران کے دارالحکومت تہران کے آزادی اسکوائر کے گرد و نواح میں فورسز کی جانب سے مظاہرین کو گولیاں مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر زیر گردش ان فوٹیج میں زمین پر خون اور لوگوں کو زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی حکام کو بندوقوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

دیگر پوسٹس میں پولیس کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے اور مظاہرین کو مت مارو کی صدائیں بلند کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر مقبول چند فوٹیجز میں سے ایک میں مظاہرین کو 'آمر کو سزائے موت دو' کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

تہران یونیورسٹی کے باہر مظاہرین کا ایک گروپ نعرے بازی کر رہا تھا کہ 'یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ امریکا ہمارا دشمن ہے، ہمارا دشمن تو یہیں موجود ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: عراق: امریکی فضائی حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ ہلاک

ابھی تک مظاہروں اور اس میں شریک تعداد کے حوالے سے باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی لیکن مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ہفتے اور اتوار کو طاقت کا استعمال کیا گیا۔

تاہم ایران کی پولیس نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی پر بھی فائرنگ نہیں کی۔

تہران پولیس کے سربراہ حسین رحیمی نے سرکار نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مظاہرے میں پولیس نے کسی پر بھی فائرنگ نہیں کی بلکہ اس کے بجائے پولیس افسران کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کی خبریں ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب ایک دن قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے عوام کے دوبارہ قتل عام کی غلطی نہ کریں۔

امریکی صدر کی ٹوئٹ پر ایران کا جواب

ٹرمپ نے ایران کے عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے انگریزی کے ساتھ ساتھ فارسی میں بھی ٹوئٹ میں ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور مظاہروں کا جائزہ لے رہا ہوں۔

انہوں نے ٹوئٹ کی کہ بہادر اور ایک عرصے سے مصائب کا سامنے کرنے والے ایرانی عوام کے ساتھ میں اپنے دور صدارت کے آغاز کے وقت سے ہی کھڑا ہوں اور میری انتظامیہ آپ لوگوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

مزید پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرامن مظاہرین کا دوبارہ قتل عام نہیں ہونا چاہیے نہ ہی انٹرنیٹ سروس بند کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں گزشتہ سال نومبر میں عوام کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کے خلاف حکومتی کارروائی میں کم از کم 300 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ اس دوران انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی تھی اور یہ ایران کی جانب سے 1979 کے بعد مظاہرین کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی۔

ٹرمپ نے اتوار کو رات گئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے آج تجویز پیش کی ہے کہ پابندیوں اور احتجاج کے سبب ایران مذاکرات پر مجبور ہو جائے گا۔

انہوں نے ایرانی حکومت سے ایک مرتبہ مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کا قتل عام نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی عوام کے ساتھ ہیں، دوبارہ پرامن مظاہرین کا قتل نہیں ہونا چاہیے، ٹرمپ

ایران نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی عوام ٹرمپ کے اقدامات کی وجہ سے مسائل شکار ہیں اور وہ یہ یاد رکھیں گے کہ انہوں نے سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا جن کی تین جنوری کو ہلاکت کے نتیجے تعزیتی جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

برطانیہ میں ایرانی سفیر طلب

ادھر ہفتے کو احتجاج کے دوران برطانوی سفیر کو تہران میں گرفتار کرنے پر برطانیہ نے پیر کو ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا۔

وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے کہا کہ سفارتی آداب کی ناقابل برداشت خلاف ورزی پر برطانیہ اپنے تحفظات کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ ہفتے کو ہونے والے احتجاج میں شرکت پر ایران میں برطانوی سفیر روب میکیئر کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر برطانیہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے'

ایرانی حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ ایک غیرقانونی طور پر منعقدہ مظاہرے میں شرکت بتائی تھی۔

برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ یہ ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور ہم ایرانی حکام سے اس بات کی مکمل یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔