یوکرینی طیارے کے متاثرین کو زرتلافی کی ادائیگی میں تعاون کریں گے، ایران

اپ ڈیٹ 13 جنوری 2020

ای میل

ایران کی سینٹرل انشورنس کمپنی پر زرتلافی سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، غلام رضا سلیمانی — فائل فوٹو: اے ایف پی
ایران کی سینٹرل انشورنس کمپنی پر زرتلافی سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، غلام رضا سلیمانی — فائل فوٹو: اے ایف پی

ایران کی سینٹرل انشورنس کمپنی کے سربراہ غلام رضا سلیمانی نے کہا ہے کہ یوکرینی طیارہ تہران کی حدود میں گر کر تباہ ہوا اس لیے حکومت متاثرین کو زرتلافی کی ادائیگی میں تعاون کرے گی۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اِرنا' کی رپورٹ کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس کے دوران غلام رضا سلیمانی نے کہا کہ یوکرین کا مسافر بردار طیارہ غلطی سے راکٹ سے تباہ ہوا، لہٰذا ایران اور یوکرین باہم افہام و تفہیم کے ساتھ نقصانات کے ازالے پر بات چیت کریں گے۔

غلام رضا سلیمانی نے کہا کہ ایران کی سینٹرل انشورنس کمپنی پر زرتلافی سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں لیکن حکومت کو بات چیت کے دوران ان کے مفید مشوروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران نے یوکرین کا مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرلیا

انہوں نے کہا کہ ایرانی کمپنیوں نے ایرانی مسافروں کی انشورنس جاری کی تھی جو غیر ملکی منازل کے لیے تھیں، لیکن طیارہ ایران میں گر کر تباہ ہوا۔

غلام رضا سلیمانی کا کہنا تھا کہ ایرانی طیاروں کا ایران کے ذریعے انشورنس ہوتا ہے لیکن متاثرہ طیارہ یوکرین کا تھا، لہٰذا اس میں یوکرین کی انشورنس کوریج موجود ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ طیارے کی انشورنس کی تفصیلات کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن ہوائی جہاز، مسافروں اور دیگر امور کو شامل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مسافر مختلف قومیتوں اور مختلف انشورنس پالیسیوں سے تھے لہٰذا معاوضوں کی تعداد پر بات چیت کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکا کے ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ اور انتہائی اہم کمانڈر قاسم سلیمانی مارے گئے تھے ان کے ساتھ عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی یوکرین اور بوئنگ کو طیارے کی تحقیقات میں شرکت کی دعوت

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

جس کے بعد 8 جنوری کو ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

جس کے کچھ گھنٹے بعد اسی روز تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔

یوکرینی وزیر خارجہ نے بتایا تھا کہ طیارے میں 82 ایرانی، 63 کینیڈین، سویڈش، 4 افغان، 3 جرمن اور 3 برطانوی شہری جبکہ عملے کے 9 ارکان اور 2 مسافروں سمیت 11 یوکرینی شہری سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 176 افراد ہلاک

9 جنوری کو ایران نے حادثے میں تباہ ہونے والے یوکرین کے مسافر طیارے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ دوران سفر مسافر طیارے میں آگ بھڑک جانے کے بعد مدد کے لیے ایک ریڈیو کال بھی نہیں کی گئی جبکہ طیارے نے ایئرپورٹ کے لیے واپس جانے کی کوشش کی تھی۔

ایرانی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کے کچھ ہی منٹ کے بعد یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائن کے بوئنگ 737 میں اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور وہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ حادثے کے بعد عالمی رہنماؤں نے طیارہ حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر طیارے کی تباہی کا الزام عائد کیا تھا۔

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ طیارہ ایران کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے تباہ ہوا جبکہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کے آسٹریلین ہم منصب اسکاٹ موریسن نے بھی اسی طرح کے بیانات دیے تھے۔

مزید پڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

علاوہ ازیں 9 جنوری کو نیویارک ٹائمز نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں ایران میں یوکرینی طیارے پر میزائل فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے اس ویڈیو کی تصدیق کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

بعد ازاں ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے پر جاری بیان میں کہا تھا تباہ ہونے والا یوکرینی طیارہ پاسداران انقلاب سے وابستہ حساس ملٹری سائٹ کے قریب پرواز کررہا تھا اور اسے انسانی غلطی کی وجہ سے غیر ارادی طور پر نشانہ بنایا گیا۔