وزیراعظم نے فیصل واڈا کی ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی عائد کردی

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2020

ای میل

فیصل واڈا کو نجی چینل کے پروگرام میں فوجی بوٹ لانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے —فائل فوٹو: ڈان نیوز
فیصل واڈا کو نجی چینل کے پروگرام میں فوجی بوٹ لانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے —فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان نے نجی چینل کے پروگرام میں فوجی بوٹ لانے پر وفاقی وزیر فیصل واڈا پر کسی بھی ٹاک شو پر آئندہ دو ہفتوں کے لیے شرکت پر پابندی عائد کردی۔

اس ضمن میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں تصدیق کی کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر سے نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں ان کے رویے پر وضاحت بھی طلب کرلی گئی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ 'وزیراعظم نے فیصل واڈا کی کسی بھی ٹاک شو پر آئندہ دو ہفتوں کے لیے شرکت پر پابندی عائد کردی ہے'۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کو نجی چینل کے پروگرام میں 'فوجی بوٹ' لانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

دوران گفتگو صورتحال اس وقت انتہائی مضحکہ خیز ہوگئی تھی جب فیصل واڈا نے 'فوجی بوٹ' میز پر رکھتے ہوئے کہا تھا کہ 'مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے لیٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'یہ ہے آج کی جمہوری مسلم لیگ، لیٹ کر چوم کر بوٹ کو عزت دو'۔

اس موقع پر پروگرام کے میزبان کاشف عباسی نے کہا تھا کہ 'میں تو سمجھا کہ آپ بندوق لے آئے ہیں، یہ تو بندوق سے بھی زیادہ خطرناک چیز لائے ہیں'۔

مزید پڑھیں: ٹی وی پروگرام میں 'فوجی بوٹ' لانے پر فیصل واڈا پر تنقید

علاوہ ازیں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے غیراخلاقی حرکت اور ریاستی ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش پر پروگرام اور اس کے میزبان پر 60دن کی پابندی عائد کردی ہے۔

پیمرا نے وفاقی وزیر کی اس حرکت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے دوران فیصل واڈا کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات انتہائی غیرسنجیدہ اور توہین آمیز تھے بلکہ انہوں نے ایک ریاستی ادارے کے وقار کو مجروح کرنے کی بھی کوشش کی۔

دوسری جانب نجی چینل کے ٹاک شو میں فوجی بوٹ دکھا کر قومی ادارے کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش پر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی گئی۔

مقامی وکیل رانا نعمان ایڈووکیٹ اور مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں ایس ایچ او تھانہ پرانی انار کلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ فیصل واڈا نے ٹاک شو میں فوجی بوٹ دکھا کر قومی سلامتی کے اداروں کی تضحیک کی اور ان کا یہ عمل اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کے مترادف ہے۔

فیصل واڈا کو ان کے اس عمل پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے اور 'ٹوئٹر' پر PTIDisrespectsArmy# ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔

سینئر صحافیوں سمیت متعدد ٹوئٹر صارفین نے فیصل واڈا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

صحافی مہر بخاری نے کہا تھا کہ 'جب قانون کی بالا دستی نہ رہے، جب ریاستی ادارے اپنا اعتماد کھو دیں تو عوامی نمائندے قرآن پاک پر حلف لے کر الزام سے بری ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وفاقی وزیر ٹی وی پر دوران پروگرام بوٹ دکھاتے ہیں'۔