'طالبان نے حملوں میں کمی پر آمادگی کا اظہار کردیا'

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2020

ای میل

واشنگٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ تعطل شدہ مذاکرات سے قبل طالبان پرتشدد حملوں میں کمی لائیں —فائل فوٹو: اے ایف پی
واشنگٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ تعطل شدہ مذاکرات سے قبل طالبان پرتشدد حملوں میں کمی لائیں —فائل فوٹو: اے ایف پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں پرتشدد حملوں میں کمی پر 'آمادگی' کا اظہار کردیا۔

شاہ محمود قریشی کے مذکورہ بیان کے بعد قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات پر مبنی نئی پیش رفت کے نتائج قریب ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے طالبان سے مذاکرات بحال، قطر میں مذاکرات کا پہلا دور

واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے مابین مذاکرات کئی مرتبہ تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔

واشنگٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ تعطل شدہ مذاکرات سے قبل طالبان پرتشدد حملوں میں کمی لائیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ 'آج مثبت پیشرفت ہوئی ہے، طالبان نے تشدد کو کم کرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کردی ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ '(امریکا کی جانب سے) جو ایک مطالبہ تھا [...] یہ امن معاہدے کی سمت ایک قدم ہے'۔

اس ضمن میں وزیر خارجہ مزید تفصیلات بنانے سے گریزاں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’امریکا، طالبان سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز جلد کرے گا‘

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان ان تبصروں پر غور کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 8 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کردیا تھا کہ انہوں نے سینئر طالبان قیادت اور افغان صدر اشرف غنی کو کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کی دعوت دی تھی تاہم آخری لمحات میں انہوں نے طالبان کے ایک حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔

اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیا تاہم اب امریکا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ’غیر معمولی نقصان‘ کا سامنا ہوگا لیکن پھر بھی مستقبل میں مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رہیں گے۔

مزیدپڑھیں: امریکا-طالبان مذاکرات میں 'بڑی کامیابی' کا دعویٰ

امریکا کے ساتھ مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد طالبان وفد 14 ستمبر کو روس بھی گیا تھا، جس کے بارے میں طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ دورے کا مقصد امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش نہیں بلکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا پر مجبور کرنے کے لیے علاقائی حمایت کا جائزہ لینا ہے۔

بعد ازاں دسمبر 2019 میں دونوں فریقین کے مابین قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن افغانستان میں بگرام فوجی اڈے کے قریب ہونے والے ایک حملے کے بعد پھر مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

طالبان نے اب تک افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے۔

طالبان افغان حکومت کو غیر قانونی سمجھتی ہے اور خدشہ موجود ہے کہ امریکیوں کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے قطع نظر افغان حکومت سے لڑائی جاری رہے گی۔