والدہ کو’تاڑنے‘ والے لوگوں کو ’تاڑ‘ کر ’تاڑو ماڑو‘ بنایا، علی گل پیر

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2020

ای میل

علی گل پیر نے 2012 میں کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ
علی گل پیر نے 2012 میں کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ

کامیڈین و گلوکار علی گل پیر اپنے منفرد اور تنقیدی گانوں کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔

علی گل پیر کو شہرت ہی اپنے مزاحیہ تنقیدی گانے ’وڈیرے کا بیٹا‘ سے ملی تھی جس کے بعد انہوں نے اسی طرح کے دیگر کامیڈی تنقیدی گانے بھی ریلیز کیے۔

پہلے چند گانوں کی کامیابی کے بعد علی گل پیر نے 2012 کے آخر میں ہی ’تاڑو ماڑو‘ گانا ریلیز کیا اور مذکورہ گانے نے بھی خوب پذیرائی حاصل کی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

اگرچہ علی گل پیر کو ’وڈیرے کا بیٹا‘ جیسے گانوں پر کچھ تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تاہم انہوں نے کبھی بھی کسی تنقید کا جواب نہیں دیا۔

تاہم حال ہی میں انہوں نے پاکستانی لوگوں کی سوچ پر بات کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے ’تاڑو ماڑو‘ گانا معاشرے کے افراد کے رویوں کو دیکھ کر بنایا۔

کامیڈین و گلوکار نے نجی ٹی وی ’بول‘ کے پروگرام ’بول نائٹ ود احسن خان‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے کیریئر سمیت دیگر موضوعات پر بات کی۔

انہوں نے اپنے گانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہوں نے ’تاڑو ماڑو‘ گانا لوگوں کے رویوں کو دیکھنے کے بعد بنایا تھا۔

گلوکار کے مطابق جب وہ کم عمر تھے اور آہستہ آہستہ انہیں دنیا و معاشرے کی سمجھ آ رہی تھی تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی والدہ کو بہت ’تاڑتے‘ ہیں۔

علی گل پیر نے اپنے روایتی انداز میں بتایا کہ جب وہ 13 سال کی عمر کے تھے تو اپنی والدہ کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔

گلوکار کے مطابق جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ باہر نکلتے تھے تو وہ دیکھتے تھے کہ لوگ ان کی والدہ کو ’تاڑتے‘ ہیں اور تب انہیں غصہ آتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پھر انہوں نے سوچا کہ ان کی والدہ تو اپنی جگہ لیکن ایسے ہی لوگ روزانہ دفتروں، اسکولز، کالجز و دیگر مقامات پر آنے جانے والی خواتین کو بھی اس طرح ’تاڑ‘ کر انہیں تنگ کرتے ہوں گے۔

علی گل پیر کے مطابق خواتین کو ’تاڑنے‘ والے افراد کو دیکھنے کے بعد ہی انہوں نے ’تاڑو ماڑو‘ گانا بنایا۔

خیال رہے کہ ’ماڑو‘ لفظ سندھی کے لفظ ’مانھوں‘ سے لیا گیا ہے جس کا مطلب ’افراد‘ یا ’لوگ‘ ہوتے ہیں۔

’تاڑو ماڑو‘ کا مطلب دوسرے لوگوں کو ’گھورنے یا تاڑنے والے افراد‘ ہیں۔

علی گل پیر کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے ایک جاگیردار گھرانے سے ہے اور جب وہ کم عمر تھے تو ان کے والدین کی طلاق ہوگئی تھی۔

علی گل پیر اسلام آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی سے بھی تعلیم حاصل کی اور یہیں سے اپنے کیریئر کے بطور گلوکار شروعات کی۔