ٹرمپ کی عراقی ہم منصب سے ملاقات: امریکی فوج کو نہ ہٹانے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 23 جنوری 2020

ای میل

امریکی اور عراقی صدور کی قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پہلی ملاقات تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
امریکی اور عراقی صدور کی قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پہلی ملاقات تھی—فائل فوٹو: اے پی پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے عراقی ہم منصب براہم صالح کی ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے عراق میں امریکی فوجی کردار کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے 50ویں سالانہ اجلاس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی۔

واضح رہے کہ 5 جنوری کو بغداد میں ایران کی فورس قدس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد دونوں سربراہوں کی پہلی ملاقات ہے۔

مزیدپڑھیں: امریکی صدر کا ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 'دونوں رہنماؤں نے داعش کے خلاف جنگ سمیت معاشی اور سلامتی شراکت داری کو جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ 'امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خودمختار، مستحکم اور خوش حال عراق کے بارے میں امریکا کے اٹل عزم کا اعادہ کیا'۔

دوسری جانب عراقی صدر کے دفتر سے ذرائع نے بتایا کہ براہم صالح نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ امریکی ڈرون حملے کے بعد فورسز کی واپسی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے عراقی صدر سے کہا کہ وہ 'عراق میں نہیں رہنا چاہتے اور بے مثال انداز میں فورسز کا انخلا کریں گے لیکن انخلا واشنگٹن کے لیے باعث توہین ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سیکریٹری دفاع کا آرمی چیف کو فون،'خطے کی کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں'

علاوہ ازیں عراقی صدر نے ڈیووس میں عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ پارلیمانی ووٹ 'ناشکری یا دشمنی کی علامت نہیں ہے' بلکہ اپنے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا جواب تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مفاد میں نہیں کہ دوسروں کی قیمت پرصرف ایک طرف سے اتحاد کریں جبکہ دونوں فریقین ہماری خودمختاری اور آزادی کا احترام کررہے ہوں۔

عراقی صدر نے مزید کہا کہ 'تعلقات کی نوعیت سے متعلق عراق کو رہنمائی کی ضرورت نہیں'۔

واضح رہے کہ خیال رہے کہ ایران نے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغ دیے تھے۔

مزیدپڑھیں: ایران کا جوابی وار، عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

ایران نے میزائل حملے میں ’80 امریکی دہشت گرد‘ ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم امریکا نے تہران کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔

اس سے قبل یعنی گزشتہ برس دسمبر میں شمالی عراق میں ہونے والے راکٹ حملے میں ایک امریکی ٹھیکیدار مارا گیا تھا جس کے جواب میں امریکی فضائی کارروائی میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجووں کے 25 اراکین ہلاک ہوگئے تھے۔