شرمین عبید چنائے نے دپیکا پڈوکون کو 'ہیرو' قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2020

ای میل

دونوں ہی تیزاب گردی کا شکار خواتین پر فلمز بنا چکی ہیں — فوٹو: انسٹاگرام
دونوں ہی تیزاب گردی کا شکار خواتین پر فلمز بنا چکی ہیں — فوٹو: انسٹاگرام

بولی وڈ کی نامور اداکارہ دپیکا پڈوکون گزشتہ سال سے اب تک خبروں کی زینت بنتی آرہی ہیں جس کی وجہ ان کی حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم 'چھپاک' اور بھارت کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا دورہ ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں دپیکا پڈوکون بھارت کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی پہنچیں تھیں اور انہوں نے بھارتی انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی تھی۔

ان کے اس اقدام کو جہاں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا وہیں مداح انہیں سراہنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے تھے۔

اس کے علاوہ دپیکا پڈوکون کے کیریئر کے اس موڑ پر 'چھپاک' جیسی فلم میں کام کرنے کے فیصلے کو بھی قابل تعریف سمجھا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: دپیکا کی ’چھپاک‘ تیزاب پھینکنے والے کے منہ پر طمانچہ

خیال رہے کہ اس فلم میں دپیکا پڈوکون نے تیزاب گردی کا شکار ہوئی لڑکی کا کردار نبھایا ہے، جس کی ریلیز کے بعد فلم کو تجزیہ کاروں اور مداحوں کا مثبت ردعمل موصول ہوا۔

جہاں دنیا بھر میں مداح دپیکا پڈوکون کو سراہ رہے ہیں وہیں پاکستان کی کامیاب فلم ساز اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے نے بھی دپیکا پڈوکون کو اپنا 'ہیرو' قرار دے دیا۔

شرمین عبید چنائے اور دپیکا پڈوکون کی ملاقات سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم 2020 کے دوران ہوئی، جس کے بعد شرمین عبید نے ان کے ہمراہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تصویر بھی شیئر کی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

اس تصویر کے ساتھ فلم ساز نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 'فنکاروں پر بھی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے'، ساتھ ہی انہوں نے دپیکا پڈوکون کے ساتھ اپنی بات چیت کو بہترین قرار دیا۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے دپیکا پڈوکون کو ہیرو قرار دیتے ہوئے لکھا کہ 'مجھے امید ہے چھپاک دیکھنے کے بعد ہم ان خواتین کو دیکھنے کا نظریہ تبدیل کرسکیں جو تکلیف میں ہیں'۔

واضح رہے کہ فلم 'چھپاک' کی کہانی بھارتی شہر نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی لکشمی اگروال کی زندگی پر مبنی ہے۔

لکشمی اگروال کو 2005 میں 16 سال کی عمر میں تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے بھی تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خواتین پر فلم ’سیونگ فیس‘ بنا چکی ہیں جو 2012 میں سامنے آئی تھی۔

مذکورہ فلم ساز کو اپنے کیریئر کا پہلا آسکر ایوارڈ اس ہی فلم کے لیے ملا تھا۔