مانسہرہ: ڈی این اے رپورٹ میں بچے سے 'زیادتی' کی تصدیق

24 جنوری 2020

ای میل

ڈاکٹر و بچے کی انجری رپورٹ اور عینی شاہدین کے بیانات سے بھی قاری شمس الدین کی بچے سے زیاتی ثابت ہوتی ہے، پولیس — فائل فوٹو / اے ایف پی
ڈاکٹر و بچے کی انجری رپورٹ اور عینی شاہدین کے بیانات سے بھی قاری شمس الدین کی بچے سے زیاتی ثابت ہوتی ہے، پولیس — فائل فوٹو / اے ایف پی

مانسہرہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ مدرسے کے استاد کا 'ڈی این اے' 10 سالہ طالب عمل سے میچ ہو گیا ہے جس کے بعد طالب سے زیادتی کی تصدیق ہوئی۔

مانسہرہ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقدمے کے مرکزی ملزم قاری شمس الدین کے ڈی این اے کے نمونے لیبارٹری رپورٹ کے مطابق بچے سے میچ ہو گئے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر کی پورٹ، بچے کی انجری رپورٹ اور عینی شاہدین کے جج کے روبرو 164 کے بیانات اور دیگر شواہد نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ قاری شمس الدین نے ہی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کیس کے شریک ملزمان پر بھی ملزم کی مدد کرنے، بچے کو حبس بے جا میں رکھنے اور شواہد کو چھپانے و مٹانے کے الزامات شواہد کے مطابق تفتیش کا حصہ بنے اور شریک ملزمان کے جرائم کو ثابت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ: بچے کا جنسی استحصال کرنے والا مرکزی ملزم پولیس کے حوالے

پولیس کا کہنا تھا کہ کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کا ٹرائل ماڈل کورٹ مانسہرہ میں کرانے کی سفارش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ متاثرہ طالب علم کو دسمبر 2019 کے آخر میں ان کے استاد نے بالائی کوہستان میں قائم ایک مدرسے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

بچے کے اہلِ خانہ کی جانب سے مانسہرہ پولیس کے پاس درج کروائے گئے مقدمے کے مطابق اسے قاری شمس الدین نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جو گورنمنٹ ہائی اسکول پرہانہ میں ٹیچر ہے اور شام میں اپنے بھائی کے مدرسے میں مذہبی تعلیم بھی دیتا تھا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: مدرسے کے طالبعلم سے بدفعلی کے الزام میں استاد گرفتار

چند روز بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق اراکین صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ اور محمد ابرار تنولی نے کیس کے مرکزی ملزم قاری شمس الدین کو پولیس کے حوالے کردیا۔

کیس میں پولیس نے مدرسے کے مالک کے ساتھ دیگر 4 ملزمان کو بھی گرفتار کیا تھا۔