جہانگیر ترین نے وسیم بادامی اور شاہزیب خانزادہ کو ہتک عزت کے نوٹسز بھیج دیے

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2020

ای میل

نوٹسز میں متعلقہ پروگرام میں معافی مانگنے اور تردید شائع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
نوٹسز میں متعلقہ پروگرام میں معافی مانگنے اور تردید شائع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے نیوز پروگرامز میں جھوٹے الزامات لگانے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے پر اینکر پرسنز شاہزیب خانزادہ اور وسیم بادامی پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا۔

شاہزیب خانزادہ کو بھیجے گئے نوٹس کے مطابق 21 جنوری کو جیو نیوز پر نشر کیے گئے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں شاہزیب خانزادہ نے یہ تاثر دیا تھا کہ جہانگیر ترین ’شوگر مافیا‘ کا حصہ ہیں اور ملک بھر میں چینی مصنوعی طور پر مہنگی کرنے میں اجتماعی طور پر شامل ہیں۔

علاوہ ازیں نوٹس میں کہا گیا کہ شاہزیب خانزادہ نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین چینی کی پیداوار، فروخت، درآمد یا برآمد سے متعلق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسی کا ’فیصلہ یا انتظام کررہے تھے‘ جس کی وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔

نوٹس میں کہا گیا کہ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ چینی کی صنعت میں جہانگیر ترین کا مفاد حکام کی جانب سے شوگر ملز کی ریگولیشن اور چینی کی قیمت میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: جہانگیر ترین کے سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

اس میں مزید کہا گیا کہ جہانگیر ترین وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ نہیں ہیں لہٰذا وہ پالیسی سازی کے عمل پر ااثر انداز نہیں ہوسکتے۔

نوٹس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جہانگیر ترین کا کسی اتھارٹی یا انضباطی اداروں جیسا کہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ نہیں۔

واضح رہے کہ شاہزیب خانزادہ نے اپنے پروگرام میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ جہانگیر ترین زرعی مصنوعات کی درآمد اور برآمد کے معاملات دیکھ رہے ہیں ان کی شوگر ملز ہیں۔

دوسری جانب وسیم بادامی کو بھیجے گئے علیحدہ نوٹس میں جہانگیر ترین نے کہا کہ 23 جنوری کو اے آر وائے نیوز پر نشر کیے گئے شو الیونتھ آور میں اینکر نے انہیں ’کرپٹ‘ کہا۔

نوٹس کے مطابق وسیم بادامی نے جہانگیر ترین کےخلاف مبینہ کرپشن یا بدعنوانی کے عمل کا کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 'عمران خان نے یوٹرن لے کر جہانگیر ترین کو کابینہ میں بٹھا لیا'

اپنے پروگرام میں وسیم بادامی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس(سی پی آئی) 2019 کی رپورٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نے خود کو ایسے لوگوں سے گھیر لیا ہے جن پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

دونوں نوٹسز میں جہانگیر ترین نے شکایت کی کہ شاہزیب خانزادہ یا وسیم بادامی نے ’انتہائی بدنیتی پر مبنی، بدنام کرنے والے اور نقصان پہنچانے والے بیانات' پر ان کا جواب نہیں مانگا تھا۔

شاہزیب خانزادہ اور وسیم بادامی کے بیانات کو ’ بے بنیاد اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے جہانگیر ترین کے وکیل نے اینکر پرسنز سے ان کے ہتک آمیز بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا اور اپنے متعلقہ پروگرام میں ‘باقاعدہ عوامی معافی‘ مانگنے اور توہین آمیز بیانات کی تردید شائع کرنے کا مطالبہ کیا۔

نوٹس میں متنبہ کیا گیا کہ اگر اینکر پرسنز مذکورہ اقدامات نہیں اٹھاتے تو ان کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس، 2002 کے تحت ایک ارب روپے ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔