بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ

اپ ڈیٹ 26 جنوری 2020

ای میل

مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مفلوج ہوگئی—فوٹو: اے ایف پی
مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مفلوج ہوگئی—فوٹو: اے ایف پی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر، لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت کے 71 ویں یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، محمد اشرف صحرائی، میر واعظ عمر فاروق کی زیرقیادت حریت فورم سمیت دیگر حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے دی۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت جھوٹا آپریشن کرسکتا ہے، وزیراعظم

مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ دنیا بھر میں موجود کشمیریوں نے بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔

کے ایم ایس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی مفلوج ہوگئی، فوجی اہلکار دن بھر گلیوں اور شاہراہوں پر گشت کرتے رہے جبکہ اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں اچانک چھاپہ مار کارروائیاں بھی کیں۔

علاوہ ازیں سری نگر میں کرکٹ اسٹیڈیم کی طرف جانے والی تمام سڑکیں خاردار تاروں سے بند کردی گئیں۔

واضح رہے کہ کرکٹ اسٹیڈیم میں آج مرکزی تقریب کا انعقاد ہونا تھا تاہم اسٹیڈیم کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر: فرانسیسی صدر کا بھارت سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر زور

خیال رہے کہ بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر ایک جانب بھارت میں فوجی پریڈوں اور عسکری قوت کا مظاہرہ کیا گیا تو وہیں دوسری جانب دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔

اس حوالے سے کشمیریوں نے دنیا بھر میں ریلیاں نکالیں اور کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنے پر بھارتی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

بھارت حقیقی جمہوری ملک نہیں، سید علی گیلانی

آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت حقیقی جمہوری ملک نہیں ہے کیونکہ وہ پچھلے 72 برس سے کشمیریوں کی فوجی طاقت کے ذریعے آواز کچل رہا ہے۔

علاوہ ازیں حریت رہنماؤں، انجینئر ہلال احمد واراور محمد شفیع نے کہا کہ کہ کوئی قانون مقبوضہ علاقے میں بھارت فوج کی موجودگی کا جواز پیش نہیں کرسکتا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر (اے پی ایچ سی-اے جے کے) نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت مخالف نعرے درج تھے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) نے بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لیے پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

بھارت میں یوم جمہوریہ

دوسری جانب بھارت میں آج 71 واں یوم جمہوریہ منایا گیا۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یوم جمہوریہ کی مرکزی تقریب دارالحکومت نئی دہلی کے انڈیا گیٹ میں منعقد کی گئی۔

برازیلین صدر جیئر بولسونارو تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

بھارتی فوجی دستوں کی بڑی تعداد نے پریڈ میں شرکت کی، جس میں جنگی سازو سامان اور اسلحے کی بھی نمائش کی گئی۔

بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر نئی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔

یاد رہے کہ نومبر 1949 میں بھارت کا آئین تیار کیا گیا تھا جبکہ 26 جنوری 1950 کو یہ نافذ العمل ہو تھا، اس سے قبل بھارت میں انگریز کا بنایا ہوا 1935 کا قانون نافذ تھا۔