’پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے نمایاں کارکردگی دکھائی‘

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف وہب سائٹ
پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا — فائل فوٹو: ایف اے ٹی ایف وہب سائٹ

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لیے نمایاں کارکردگی دکھائی ہے

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق شرح سود 13.25 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ مرکزی بینک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مئی اور ستمبر میں ہونے والے گزشتہ دو جائزوں میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اٹھائے گئے 27 نکات میں سے اکثر میں اہم پیشرفت کی تھی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ہی یہ فیصلہ کرنے والی حتمی اتھارٹی ہے کہ یہ پیشرفت پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکالنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو اصولاً ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے، وزیرخارجہ

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان اس سمت میں مزید کارکردگی جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خاتمے میں مسلسل کردار ادا کررہا ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پیرس میں منعقدہ ایف اے ٹی ایف اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے گرے فہرست میں رکھا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے بیان کے مطابق 'اسلام آباد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے'۔

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔

جس کے بعد چند روز قبل وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں 18 رکنی وفد نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ ( اے پی جی) کے بیجنگ میں ہونے والے 3 روزہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے سفارتی کوششوں کی ضرورت

اس حوالے سے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے اراکین نے 27 نکاتی ایکشن پلان کے اکثر نکات پر تسلی بخش پیش رفت سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا تھا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ ان تمام 39 رکن ممالک کو اپنی رپورٹ بھیجنے کے لیے یکم فروری تک اسے حتمی شکل دے گا جو 16 سے 21 فروری کے درمیان پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں جس طرح ہمارے اقدامات کو سراہا گیا ہے اس کے مطابق اصولاً پاکستان کا نام گرے لسٹ سے باہر آنا چاہیے۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہماری جو بھی سیاسی ذمہ داری تھی اور ایکشن پلان پر پیش رفت کرنا تھی وہ سب ہم نے ان کے سامنے رکھی اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ اس کو سراہا گیا، سب نے تعریف کی اور کہا کہ پچھلے 10 برسوں میں جو نہیں ہوا تھا وہ پچھلے 10 ماہ میں آپ نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہے’۔