بلوچستان میں سال کا پہلا، خیبرپختونخوا میں تیسرا پولیو کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2020

ای میل

2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے —تصویر: انسداد پولیو ویب سائٹ
2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے —تصویر: انسداد پولیو ویب سائٹ

بلوچستان میں سال کا پہلا اور خیبرپختونخوا میں تیسرا پولیو کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں برس صرف ایک ماہ کے دوران پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی۔

بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں 20 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔

محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ بچے کو 3 مرتبہ پولیو ویکسین پلائی گئی تھی اور اس کے نمونے 3 جنوری کو حاصل کیے گئے تھے، حکام کا کہنا تھا کہ متعلقہ علاقے میں پولیو وائرس کے زیادہ اثرات ہیں۔

دوسری جانب ایمرجنسی آپریشن خیبرپختونخوا نے ضلع ٹانک میں پولیو کا نیا کیس سامنے آنے کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ، خیبر پختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز کی تصدیق

حکام کے مطابق ٹانک میں 11 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے نمونے 11 جنوری کو تصدیق کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔

ای او سی کے مطابق پولیو سے متاثر ہونے والے بچے کو حفاظتی ٹیکے بھی نہیں لگوائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال پولیو کے کیسز کی تعداد 3 ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ برس بھی ملک میں سب سے زیادہ 92 کیسز اسی صوبے میں سامنے آئے تھے۔

یاد رہے کہ 2018 میں پولیو کے صرف 12 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 2017 میں 8 پولیو کیسز منظر عام پر آئے تھے۔

تاہم گزشتہ برس اپریل میں انسداد پولیو مہم میں آنے والے تعطل کے باعث پولیو کا پھیلاؤ صحت حکام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا اور سال 2019 میں پولیو سے 140 بچے معذوری کا شکار ہوئے۔

خیال رہے کہ 19 جنوری کو نئے سال کے پہلے پولیو کیس کی لکی مروت میں تصدیق ہوئی تھی جہاں ایک سالہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہوا تھا جسے ایک مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا: لکی مروت میں نئے سال کے پہلے مہینے میں پولیو کا پہلا کیس

واضح رہے کہ پولیو وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور اعصابی نظام میں داخل ہوکر تاحیات معذور بنا سکتا ہے۔

ویکسین کے علاوہ پولیو کے خاتمے کا کوئی سبب نہیں تاہم بروقت قطرے پلانے سے بچے اس خطرناک وائرس سے بچ سکتے ہیں اور ماہرین صحت والدین پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو ہر دفعہ قطرے ضرور پلوائیں۔

دنیا کے اکثر ممالک پولیو کے مرض سے چھٹکارہ پاچکے ہیں لیکن پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس وقت بھی پولیو کیسز مسلسل سامنے آرہے ہیں اور اس کا انسداد نہ ہوسکا۔

پاکستان تاحال پولیو سے متاثرہ ملک ہونے کے باعث عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد سفری پابندیوں کا شکار ہے اور 2014 سے بیرون ملک سفر کرنے والے ہر شہری کو پولیو سے متعلق سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔