'قومی ادارہ صحت کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے نمٹنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہا ہے'

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2020

ای میل

عندلیب عباس نے بتایا کہ چینی حکومت کی جانب سے صوبہ ووہان کو بند کر دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
عندلیب عباس نے بتایا کہ چینی حکومت کی جانب سے صوبہ ووہان کو بند کر دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

قومی اسمبلی میں کورونا وائرس کی وجہ سے چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی مشکلات کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکریٹری خارجہ امور عندلیب عباس نے بتایا کہ چین میں 28 ہزار پاکستانی طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ ووہان میں 500 سے 800 کے قریب طلبہ پڑھ رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں پارلیمانی سیکریٹری خارجہ امور عندلیب عباس نے توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں اور پھر انسانوں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔

مزید پڑھیں: چین سے پاکستانیوں کو نہ نکالنا ہی سب کے لیے بہتر ہے، معاون خصوصی صحت

انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کچھ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہیں۔

عندلیب عباس کا کہنا تھا کہ چینی حکومت کی جانب سے صوبہ ووہان کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ہماری حکومت 3 سطح پر اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ 'قومی ادارہ صحت پاکستان وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے'۔

کورونا وائرس سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر پارلیمانی سیکریٹری خارجہ امور عندلیب عباس نے ایوان میں جواب دیا کہ متاثرہ افراد کو 14 روز تک باہر نکلنے نہیں دیا جاسکتا اور ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں چار پاکستانی طلبہ میں سے ایک طالب علم میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کا حکومتِ پاکستان سے مدد کا مطالبہ

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ 'ہزاروں طلبہ چین میں موجود ہیں وہ طلبہ و دیگر افراد فی الوقت اس لیے نہیں آسکتے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کے چاروں صوبوں میں کورونا وائرس کے تدارک کے لیے ایمرجنسی کے ساتھ وارڈز تک مختص کیے جاچکے ہیں'۔

آرڈیننس میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن کا واک آؤٹ

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے مشاورت کے بغیر ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس 2019 اور پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی آرڈیننس 2019 میں توسیع کروانے کے معاملے پر اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے واک آؤٹ سے قبل ایوان زیریں میں خطاب کے دوران کہا کہ قومی اسمبلی کا بنیادی کام قانون سازی ہے ہم یہاں آرڈیننس منظور کرنے کے لیے نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ شیڈول کے مطابق اجلاس 10 فروری کو بلایا جانا تھا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس آرڈیننس پیش کرنے کے لیے جلد بلایا گیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مذکورہ آرڈیننسز کو بلوں کی صورت میں لایا جائے۔

مزیدپڑھیں: نیب ترمیمی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ 'ہماری رائے کے بغیر انکم ٹیکس اور سی پیک آرڈیننس میں توسیع کروانے جا رہے ہیں'۔

بعدازاں اپوزیشن جماعتوں نے ٹیکس قوانین اور سی پیک آرڈیننس کے خلاف قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا۔

جس کے بعد پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کورم نامکمل ہونے کی نشاندہی کرائی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کو منانے کے لیے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کو بھیج دیا۔

پرویز خٹک کی کوششوں کی بدولت اپوزیشن دوبارہ اسمبلی میں داخل ہوئی اور کورم پورا ہونے پر تعطل شدہ اجلاس جاری ہوگیا اور قومی اسمبلی میں ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس اور قومی احتساب بیورو ترمیمی آرڈیننس پیش کردیا گیا۔