پاک۔ترک صدور کی ملاقات: مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے پر اتفاق

اپ ڈیٹ 13 فروری 2020

ای میل

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے — ثنااللہ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے — ثنااللہ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے — ثنااللہ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے — ثنااللہ

پاکستان اور ترکی کے صدور نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کو اسلاموفوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات کے لیے ایوان صدر پہنچے جہاں صدر پاکستان نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔

ملاقات کے دوران ڈاکٹر عارف علوی نے دونوں ممالک کے مابین بہتر اور کثیرالجہتی تعلقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے اسٹرٹیجک تعاون کونسل کے چھٹے اجلاس سے پاکستان اور ترکی کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور ان کو وسعت ملے گی۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاسی، معاشی، ثقافتی، دفاعی اور عوام کی سطح پر رابطوں سمیت تاریخی دوطرفہ تعلقات کی خصوصی اہمیت کو اجاگر کیا۔

صدر مملکت نے رجب طیب اردوان کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا اور مقبوضہ وادی کے بارے میں ان کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے لیے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں شورش کے بعد تعمیرنو میں اپنی مدد کو بڑھانا چاہیے۔

دونوں صدور نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کو اسلاموفوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مل کر کام کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے امور پر باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔

انہوں نے پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کی بے پناہ صلاحیتوں کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کو ایک مضبوط اور متحرک تجارتی اور معاشی شراکت میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بعد ازاں صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ان کی اہلیہ امینہ اردوان اور وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔

مزید پڑھیں: ترک صدر کا دورہ پاکستان، 14 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے

ترک صدر کا پرتپاک استقبال

وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر بغل گیر ہورہے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی
وزیر اعظم عمران خان اور ترک صدر بغل گیر ہورہے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔

ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔

اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالی پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے ایئربیس سے وزیر اعظم ہاؤس تک ترک صدر کی گاڑی خود ڈرائیو کی۔

وزیر اعظم اور ترک صدر قومی ترانوں کے احترام میں کھڑے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی
وزیر اعظم اور ترک صدر قومی ترانوں کے احترام میں کھڑے ہیں — فوٹو: پی آئی ڈی

وزیر اعظم ہاﺅس میں ترک صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، اس موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے ترک صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں ترک سفیر مصطفیٰ یرداکل نے کہا تھا کہ رجب طیب اردوان کا دورہ اسلام آباد تاریخی موقع ہے اور دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کی جانب اہم قدم ہوگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) تکمیل کے مراحل میں ہے اور ترکی اس منصوبے میں قائم ہونے خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ترک صدر 13 سے 14 فروری کے دوران دونوں ممالک کے مابین ’روایتی یکجہتی اور تعلق‘ کے فروغ اور پاک-ترک اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید توسیع کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔

ترک صدر 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے— فوٹو: ڈان نیوز
ترک صدر 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے— فوٹو: ڈان نیوز

دورہ پاکستان میں رجب طیب اردوان کے ہمراہ ان کے کابینہ اراکین، سینئر حکومتی عہدیداران، معروف ترک کاروباری شخصیات بھی ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستان-ترکی ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے چھٹے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گی۔

علاوہ ازیں ترک صدر 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان-ترکی بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کریں گے۔

ترکی اور پاکستان کے درمیان ایچ ایل ایس سی سی اجلاس میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔

رجب طیب اردوان دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترکی کو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بننے کی دعوت دیے جانے کا بھی امکان ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان ترک کاروباری شخصیات کی جانب سے پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے منصوبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کا دورہ پاکستان ملتوی، تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے تجاویز سے متعلق دفتر خارجہ نے کہا کہ ’دونوں فریقین اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں‘۔

بیان کے مطابق اسلاموفوبیا سے نمٹنے، اسلامی یکجہتی کے فروغ اور خطے کے امن، سیکیورٹی اور استحکام کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ’متحرک تعاون‘ کے منصوبے بھی ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد کا ایک منفرد اور مستقل تعلق موجود ہے، دونوں برادرانہ ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے ثابت قدم رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔

قبل ازیں گزشتہ برس 11 اکتوبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 23 اکتوبر کو سرکاری دورے پر پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کی حمایت کریں گے۔

بعدازاں 17 اکتوبر کو ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ ان کا دورہ ملتوی ہوگیا ہے اور نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، اس موقع پر دورہ ملتوی کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی تھی۔

تاہم اس وقت ترکی شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن میں مصروف تھا جس کے باعث امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے تھے۔