ایف بی آر نے 25 سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات تیز کردی

اپ ڈیٹ 16 فروری 2020

ای میل

25 میں سے 15 کیسز صرف لاہور زون میں درج ہیں، کراچی اور اسلام آباد زونز میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں — اے پی پی: فائل فوٹو
25 میں سے 15 کیسز صرف لاہور زون میں درج ہیں، کراچی اور اسلام آباد زونز میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں — اے پی پی: فائل فوٹو

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے بے نامی زونز نے پنجاب اور سندھ میں 8 ارب روپے سے زائد کے اثاثے رکھنے والے 25 سیاستدانوں سے متعلق ہائی پروفائل کیسز میں تحقیقات کو مزید تیز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ ان سیاستدانوں نے 2 صوبوں میں 71 بے نامی اداروں کے نام پر ہزاروں کینال بے نامی زمینیں اور اثاثے رجسٹرڈ کرا رکھے ہیں۔

25 میں سے 15 ہائی پروفائل کیسز صرف لاہور زون میں ہی زیر تفتیش ہیں جبکہ کراچی اور اسلام آباد زونز میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

مزید پڑھیں: 'تحریک انصاف کے 23 بے نامی اکاؤنٹس پکڑے جا چکے ہیں'

ساڑھے 7 ہزار کینال بے نامی زمین سے متعلق ایک کیس میں اسلام آباد زون نے اب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر خان کے خلاف بے نامی ایکٹ کے تحت 6 ریفرنسز دائر کیے ہیں۔

اسلام آباد زون میں ایک لاکھ 25 ہزار کینال سے زائد بے نامی زمین سے متعلق ایک اور کیس کی تحقیقات جاری ہیں جس کا تعلق شریف خاندان سے بتایا جارہا ہے۔

حکام اسلام آباد زونز میں زیرِ تفتیش دیگر 3 کیسز میں تفصیلات کو سامنے نہیں لارہے جبکہ ذرائع نے تصدیق کی کہ دیگر 3 کیسز میں بھی سیاست دان ہی شامل ہیں اور 5 مقدمات میں کل 10 بے نامی دار ہیں۔

ڈان کی نظر سے گزرنے والے سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ کراچی زون میں زیر تفتیش 5 کیسز اور لاہور زون میں زیرِ تفتیش 15 مقدمات میں سے کسی ایک میں اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بے نامی ٹرانزیکشنز اور جائیداد پر ایف بی آر کی وضاحت

خیال رہے کہ لاہور زون راولپنڈی ڈویژن کے علاوہ پورے پنجاب کا معاملہ دیکھتا ہے جبکہ کراچی زون، پورے سندھ اور بلوچستان کے معاملات دیکھتا ہے۔

اسلام آباد زون پر اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور سول ڈویژن راولپنڈی کی ذمہ داری عائد ہے۔

ان تمام میں سے، لاہور میں 39 اور کراچی میں 24 بے نامی داروں کو 90 شو کاز نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں۔

15 ارب روپے پر مشتمل اومنی گروپ کے اثاثوں، جس کے 45 مالکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، سے یہ کیسز الگ ہیں۔

خیال رہے کہ اب تک بے نامی ایکٹ کے تحت 10 ریفرنسز دائر کیے جاچکے ہیں۔

زیادہ تر ہائی پروفائل کیسز، جن میں 25 سیاست دان ملوث ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے اقدام کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے ملک بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے علاقوں میں بے نامی اثاثوں کو رپورٹ کرنے کے احکامات کے بعد ضلعی لینڈ ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں سامنے آئے۔

28 اگست 2019 کو صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک خط میں وزیر اعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی تھیں جس کے جواب میں گزشتہ 5 ماہ میں خیبرپختونخوا اور دیگر صوبوں کی جانب سے بھرپور ردعمل نہیں دیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور اور ضلع ٹانک میں تھوڑی بہت بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

صوبہ پنجاب میں 72 ارب 79 کروڑ روپے کے 28 ہزار 6 سو 7 کینال پر مشتمل 228 بے نامی جائیدادوں کی 13 اضلاع میں نشاندہی کی گئی تھی جن میں بہاولنگر، بہاولپور، چنیوٹ، خوشاب، ملتان، ننکانہ صاحب، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاک پتن، گجرات، حافظ آباد، فیصل آباد اور لاہور شامل ہیں۔

سندھ میں بھی ضلعی حکام نے زیادہ جائیدادوں کی نشاندہی نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں 3 بے نامی زونز قائم کیے ہیں جن میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی زونز شامل ہیں جو کیسز کی تحقیقات کرتے ہیں اور ریفرنسز فائل کرتے ہیں۔